مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

ڈینگی کا موسم: بچاؤ کے 5 آسان کام، بخار میں کون سی دوا نہ لیں، اور کیا شہد ڈینگی کا علاج ہے؟

پاکستان میں ڈینگی کا زور اکتوبر سے نومبر کے وسط تک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ڈینگی کا کوئی خاص علاج نہیں، اس لیے بچاؤ ہی سب سے اہم ہے۔ جانیے مچھر کہاں پلتا ہے، بخار میں کون سی دوا نہیں لینی، خطرے کی علامات کیا ہیں، اور شہد یا کسی ٹوٹکے کے بارے میں سچ کیا ہے۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
ڈینگی سے بچاؤ کی چیک لسٹ: کھڑا پانی ختم کریں، ٹینکیاں ڈھانپیں، مچھر بھگانے والا لوشن لگائیں، پورے کپڑے پہنیں، اور بخار میں صرف پیراسیٹامول لیں

ڈینگی سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ مچھر کے کاٹنے سے بچنا اور گھر میں کھڑا پانی ختم کرنا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی کا کوئی خاص علاج نہیں: بخار اور درد کے لیے پیراسیٹامول لی جاتی ہے، اور آئبوپروفین اور اسپرین نہیں لینی چاہیے۔ شہد، پپیتے کے پتے یا کوئی اور ٹوٹکا ڈینگی کا علاج نہیں۔ پاکستان میں ڈینگی کا زور عام طور پر اکتوبر سے نومبر کے وسط تک سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

ڈینگی کیسے پھیلتا ہے؟

ایک خاص مچھر کے کاٹنے سے، جو دن میں کاٹتا ہے۔ WHO کے مطابق ڈینگی کا وائرس زیادہ تر ایڈیز (Aedes aegypti) مچھر سے پھیلتا ہے، جو دن کے وقت سرگرم ہوتا ہے۔ یہ مچھر گھروں کے آس پاس کھڑے پانی میں پلتا ہے: گملوں کی پلیٹیں، پرانے ٹائر، کولر، ٹینکیاں اور پانی کے برتن۔

پاکستان میں ڈینگی کا موسم

مون سون کے بعد، اکتوبر سے نومبر کے وسط تک عروج۔ 2025 میں محکمۂ موسمیات نے 20 ستمبر سے دسمبر کے شروع تک ڈینگی کے زیادہ خطرے کا الرٹ جاری کیا، اور حکام کے مطابق اکتوبر سے نومبر کے وسط تک یہ سب سے زیادہ ہوتا ہے، پھر کم ہونے لگتا ہے۔ گرم اور مرطوب موسم، اور بارش کے بعد جمع پانی، مچھر کے لیے سب سے موزوں ہیں۔

بچاؤ کے 5 آسان کام

WHO کی ہدایات کی بنیاد پر:

  1. کھڑا پانی ختم کریں: ہفتے میں کم از کم ایک بار گملوں کی پلیٹیں، کولر اور برتن خالی کر کے صاف کریں۔
  2. پانی ڈھانپ کر رکھیں: ٹینکیوں اور پانی کے برتنوں کو ڈھکن سے بند رکھیں اور باقاعدگی سے صاف کریں۔
  3. مچھر بھگانے والی دوا: جلد پر DEET یا Picaridin والا لوشن لگائیں۔
  4. پورے کپڑے: خاص طور پر بچوں کو پوری آستین اور لمبی پتلون پہنائیں۔
  5. مچھر دانی: دن میں سونے والے بچوں اور بزرگوں کے لیے بھی، کیونکہ یہ مچھر دن میں کاٹتا ہے۔

علامات کیا ہیں؟

تیز بخار، سر درد، جسم میں درد اور دانے۔ WHO کے مطابق زیادہ تر لوگوں میں علامات ہلکی ہوتی ہیں یا ہوتی ہی نہیں۔ جن میں ہوں، ان میں مچھر کے کاٹنے کے 4 سے 10 دن بعد تیز بخار (تقریباً 40 ڈگری سینٹی گریڈ)، شدید سر درد، جسم اور جوڑوں میں درد، متلی اور دانے نکل سکتے ہیں۔

خطرے کی علامات: فوراً اسپتال

یہ علامات ہوں تو دیر نہ کریں۔ WHO کے مطابق شدید ڈینگی کی علامات یہ ہیں:

  • پیٹ میں شدید درد
  • بار بار الٹی
  • تیز تیز سانس لینا
  • مسوڑھوں یا ناک سے خون آنا

ان میں سے کوئی بھی علامت ہو تو فوراً ڈاکٹر یا اسپتال جائیں۔

بخار میں کون سی دوا؟

صرف پیراسیٹامول، ڈاکٹر کے مشورے سے۔ WHO کہتا ہے کہ ڈینگی میں آئبوپروفین اور اسپرین جیسی درد کش دوائیں نہ لیں، کیونکہ ان سے خون بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اپنی مرضی سے کوئی دوا نہ لیں، اور ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں۔

کیا شہد ڈینگی کا علاج ہے؟

نہیں۔ کسی بھی کھانے، شہد، پپیتے کے پتوں یا ٹوٹکے سے ڈینگی ٹھیک نہیں ہوتا۔ ڈینگی کا علاج ڈاکٹر کی نگرانی، آرام، پانی اور مشروبات، اور بخار کی صحیح دوا ہے۔ سوشل میڈیا پر «ڈینگی کا یقینی علاج» دیکھیں تو ہوشیار رہیں۔ شہد کے بارے میں مشہور دعووں کی حقیقت یہاں پڑھیں۔

  • 12 مہینے سے کم عمر بچے کو شہد بالکل نہ دیں۔ تفصیل یہاں۔
  • شوگر کے مریض بیماری میں بھی میٹھا ڈاکٹر کے مشورے سے لیں۔

صفائی نصف ایمان

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔» (صحیح مسلم، 223)

گھر اور گلی میں کھڑا پانی صاف کرنا بھی اسی پاکیزگی کا حصہ ہے۔ ایک گھر کی صفائی پوری گلی کو مچھر سے بچا سکتی ہے۔ صاف ہوا کے بارے میں ہماری سموگ کی تحریر یہاں۔

یہ تحریر عام معلومات کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔ بخار ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔

تمام تحریریں ←
ہوائی سفر میں شہد لے جانے کے چار مرحلے: ہینڈ بیگ میں 100 ملی لیٹر تک، بڑی بوتل چیک اِن میں، ڈھکن پر ٹیپ اور دو تھیلیاں، اور منزل والے ملک میں شہد ڈیکلیئر کرنا

ہوائی سفر میں شہد کیسے لے جائیں؟ ہینڈ بیگ کی 100 ملی لیٹر کی حد، چیک اِن سامان، اور وہ ملک جہاں شہد بتانا لازمی ہے

سردیوں میں عمرہ کا سفر ہو یا بیرونِ ملک رشتہ داروں کے پاس جانا، شہد کا تحفہ ساتھ لے جانا عام ہے۔ مگر ہوائی اڈے پر شہد «مائع» مانا جاتا ہے، اس لیے ہینڈ بیگ میں صرف 100 ملی لیٹر تک جا سکتا ہے۔ جانیے شہد کو کیسے پیک کریں، چیک اِن سامان میں کیا خیال رکھیں، اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ملکوں میں شہد کے بارے میں کیا قانون ہے۔

مکھیوں کے لیے پانی رکھنے کے تین آسان کام: کم گہرا برتن، اس میں کنکر تاکہ مکھی ڈوبے نہیں، اور پانی بدلتے رہنا، ساتھ حدیث کہ ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے

پیاسے کتے کو پانی پلانے والا، اور ہماری مکھیاں: ہر جاندار پر رحم کا اجر، اور مکھیوں کے لیے پانی کا آسان انتظام

صحیح بخاری میں ایک شخص کا واقعہ ہے جس نے پیاسے کتے کو اپنے موزے میں پانی بھر کر پلایا، اور اللہ نے اسے بخش دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے۔ شہد کی مکھیوں کو بھی پانی چاہیے، خاص طور پر گرمی میں چھتا ٹھنڈا رکھنے کے لیے۔ جانیے مکھیاں پانی کیوں لاتی ہیں، اور گھر میں ان کے لیے محفوظ پانی کیسے رکھیں۔

شہد اور IBS: ایک بار میں تقریباً 7 گرام یعنی ایک چھوٹا چمچ شہد کم FODMAP ہے، زیادہ مقدار سے حساس لوگوں میں اپھارہ ہو سکتا ہے

شہد کھا کر پیٹ پھولتا ہے؟ IBS، «فرکٹوز» اور شہد کی صحیح مقدار

زیادہ تر لوگوں کے لیے تھوڑا شہد بالکل ٹھیک ہے، مگر IBS والے بعض لوگوں کو زیادہ شہد سے اپھارہ، پیٹ درد یا دست ہو سکتے ہیں۔ وجہ شہد میں گلوکوز سے زیادہ فرکٹوز ہے۔ جانیے FODMAP کیا ہے، موناش یونیورسٹی شہد کی کتنی مقدار کو کم FODMAP مانتی ہے، اور کب ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے۔