مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab
مکھیوں کی دنیا

پاکستان کی شہد کی مکھیاں

پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی چار اقسام: چھوٹی مکھی (Apis florea)، بڑی مکھی یا ڈُمنا (Apis dorsata)، پہاڑی دیسی مکھی (Apis cerana) اور فارمی اطالوی مکھی (Apis mellifera)۔ ان کے چھتے، مسکن اور شہد کا فرق جانیں۔

مکھیوں کی دنیا

پاکستان کی شہد کی مکھیاں

پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی چار اقسام پائی جاتی ہیں — تین مقامی اور ایک باہر سے لائی گئی۔ ہر مکھی کا شہد، مزاج اور گھر الگ ہے۔

  • کانٹے دار جھاڑی کی ٹہنی پر چھوٹی مکھی کا ننھا سا کھلا چھتاجنگلی

    چھوٹی مکھی

    Apis florea

    جسامت710 mm

    دنیا کی سب سے چھوٹی شہد کی مکھیوں میں سے ایک۔ ایک ہی کھلا سا چھتا ٹہنی کے گرد بناتی ہے اور نئی جگہ جاتے وقت پرانے چھتے کا موم ساتھ لے جاتی ہے۔

    مسکن
    میدانی علاقوں اور جنگلات میں جھاڑیوں اور درختوں کی ٹہنیوں پر
    شہد
    ایک چھتے سے سال میں تقریباً 300 سے 450 گرام — اسی لیے نایاب۔
  • چٹان کے نیچے لٹکتے ڈُمنا مکھی کے بڑے جنگلی چھتےجنگلی

    بڑی مکھی (ڈُمنا)

    Apis dorsata

    جسامت1720 mm

    سب سے بڑی شہد کی مکھی۔ ایک ہی چھتا ڈیڑھ میٹر تک لمبا ہو سکتا ہے جس میں ایک لاکھ تک مکھیاں رہتی ہیں۔ بہت جارحانہ ہے، اس لیے اسے پالا نہیں جا سکتا۔

    مسکن
    نیم پہاڑی علاقوں میں اونچے درختوں، چٹانوں اور عمارتوں کے نیچے
    شہد
    ایک بڑے چھتے سے سال میں 36 کلو تک — روایتی شہد اتارنے والے حاصل کرتے ہیں۔
  • درخت کے کھوکھلے تنے میں پہاڑی مکھی کے قدرتی چھتےجنگلی

    پہاڑی (دیسی) مکھی

    Apis cerana

    جسامت1012 mm

    پاکستان کی مقامی مکھی جو اندھیری، محفوظ جگہوں پر ساتھ ساتھ کئی چھتے بناتی ہے۔ پہاڑی لوگ صدیوں سے اس کا جنگلی شہد اتارتے آ رہے ہیں۔

    مسکن
    شمالی پہاڑی جنگلات — درختوں کے کھوکھلے تنوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں
    شہد
    درمیانی مقدار، پہاڑی پھولوں کی خوشبو والا شہد۔
  • جنگلی پھول سے زرِ گل جمع کرتی سنہری شہد کی مکھیفارمی / پالی جاتی ہے

    فارمی (اطالوی) مکھی

    Apis mellifera

    جسامت1215 mm

    یورپی نسل کی مکھی جو 1977 کے بعد پاکستان میں کامیابی سے آباد ہوئی۔ نرم مزاج اور زیادہ شہد دینے والی، اس لیے آج تجارتی مگس بانی زیادہ تر اسی سے ہوتی ہے۔

    مسکن
    مگس بانوں کے لکڑی کے ڈبے — موسم کے ساتھ ملک بھر میں سفر
    شہد
    بازار کا زیادہ تر فارمی شہد اسی مکھی کا ہے۔ شہدِ ناب فارمی شہد فروخت نہیں کرتا۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ 🐝

  • 20 لاکھ

    مکھیوں کو آدھا کلو شہد بنانے کے لیے تقریباً 20 لاکھ پھولوں کا رس چوسنا پڑتا ہے۔

  • 1/12

    ایک مزدور مکھی اپنی پوری زندگی میں چائے کے چمچ کا صرف بارہواں حصہ شہد بناتی ہے۔

  • 4

    پاکستان میں شہد کی مکھیوں کی چار اقسام پائی جاتی ہیں — تین مقامی اور ایک باہر سے لائی گئی۔

  • 1 لاکھ

    ڈُمنا مکھی کا ایک جنگلی چھتا ڈیڑھ میٹر تک لمبا اور ایک لاکھ تک مکھیوں کا گھر ہو سکتا ہے۔

عام سوالات

مکھیوں اور شہد کی اقسام کے بارے میں سوالات

جنگلی اور فارمی شہد، چھوٹی اور بڑی مکھی، اور شہد کی اقسام سے متعلق عام سوالات۔

تمام سوالات

مکھیاں اور شہد کی اقسام

جنگلی اور فارمی شہد میں کیا فرق ہے؟

فارمی شہد لکڑی کے ڈبوں میں پالی گئی مکھیوں سے آتا ہے، جنہیں مگس بان پھولوں کے موسم کے ساتھ ایک علاقے سے دوسرے علاقے لے جاتے ہیں، اور کمی کے دنوں میں اکثر چینی کا شربت بھی کھلاتے ہیں۔ جنگلی شہد قدرتی چھتوں سے اتارا جاتا ہے جنہیں مکھیاں خود درختوں، چٹانوں اور جنگلوں میں بناتی ہیں اور صرف قدرتی پھولوں کا رس چوستی ہیں۔ اسی لیے جنگلی شہد کا ذائقہ ہر موسم اور علاقے کے ساتھ بدلتا ہے۔ شہدِ ناب صرف جنگلی شہد فراہم کرتا ہے۔

چھوٹی مکھی اور بڑی مکھی کے شہد میں کیا فرق ہے؟

چھوٹی مکھی (Apis florea) پاکستان کی سب سے چھوٹی شہد کی مکھی ہے جو جھاڑیوں پر ایک چھوٹا سا کھلا چھتا بناتی ہے اور بہت کم شہد دیتی ہے، اسی لیے اس کا شہد نایاب ہے اور طبِ یونانی میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔ بڑی مکھی یا ڈُمنا (Apis dorsata) سب سے بڑی جنگلی مکھی ہے جو اونچے درختوں اور چٹانوں پر بڑے چھتے بناتی ہے۔ دونوں جنگلی ہیں اور پالی نہیں جاتیں۔ شہدِ ناب پر تقریباً ہر قسم کا شہد دونوں مکھیوں سے دستیاب ہے — آرڈر کرتے وقت اپنی پسند کی مکھی چن لیں۔ پہاڑی (دیسی) مکھی صرف شمالی پہاڑوں میں ملتی ہے، اور اس کا شہد بہت کم مقدار میں اترتا ہے، اس لیے اس کی اقسام اور دستیابی واٹس ایپ پر معلوم کریں۔

بازار میں "بڑی مکھی کا شہد" کس کو کہا جاتا ہے؟

عام بول چال میں کئی دکاندار فارمی (اطالوی) مکھی کے شہد کو بھی "بڑی مکھی" کا شہد کہہ دیتے ہیں، حالانکہ اصل بڑی مکھی جنگلی ڈُمنا ہے۔ ہمارا شہد فارمی نہیں — ہم صرف جنگلی مکھیوں کے قدرتی چھتوں کا شہد فراہم کرتے ہیں اور ہر جار پر واضح لکھتے ہیں کہ شہد کس مکھی اور کس علاقے کا ہے۔

فارمی (اطالوی) مکھی پاکستان کب آئی؟

مغربی شہد کی مکھی (Apis mellifera) کو پاکستان لانے کی پہلی کوشش 1908 میں ہوئی مگر کئی دہائیوں تک ناکام رہی۔ آخرکار 1977 سے 1979 کے دوران آسٹریلیا سے لائی گئی مکھیاں اسلام آباد کے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں کامیابی سے آباد ہوئیں۔ آج بازار کا زیادہ تر تجارتی (فارمی) شہد اسی مکھی سے حاصل ہوتا ہے۔

بیری اور پھلائی میں سے کون سا شہد بہتر ہے؟

دونوں خالص اور بہترین ہیں، فرق ذائقے اور استعمال کا ہے۔ بیری کا شہد گاڑھا، گہرا اور بھرپور ہوتا ہے اور اسے عموماً صحت کے لیے اور تحفے میں دیا جاتا ہے۔ پھلائی کا شہد ہلکا اور نرم ذائقے والا ہے، روزانہ کے استعمال اور بچوں کے لیے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔

کیا چھتے والا شہد موم سمیت کھایا جا سکتا ہے؟

جی ہاں۔ مکھیوں کا موم کھانے میں محفوظ ہے۔ جسم اسے ہضم نہیں کرتا اور یہ ویسے ہی خارج ہو جاتا ہے۔ بہت سے لوگ موم چبا کر شہد چوس لیتے ہیں اور موم نکال دیتے ہیں — دونوں طریقے درست ہیں۔