مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد کی مکھی یا بھڑ؟ دونوں کو پہچاننے کے 5 آسان فرق

شہد کی مکھی کے جسم پر بال ہوتے ہیں اور وہ پھولوں کا رس اور زرِ گل جمع کرتی ہے، جبکہ بھڑ چکنی، چمکدار اور تیز پیلے کالے رنگ کی ہوتی ہے، کیڑے بھی پکڑتی ہے اور بار بار ڈنک مار سکتی ہے۔ پانچ آسان فرق، جامعات کے ماہرینِ حشرات کے مطابق۔

5 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
سنہرے پس منظر پر عنوان «شہد کی مکھی یا بھڑ؟» اور چار سبز کارڈ: جسم پر بال یا چکنا جسم، بھڑ کا تیز پیلا کالا رنگ، مکھی پھولوں کا رس لیتی ہے اور بھڑ کیڑے بھی پکڑتی ہے، مکھی ایک بار اور بھڑ بار بار ڈنک مار سکتی ہے۔

گھر میں، باغ میں یا کھانے کی میز کے پاس کوئی پیلی کالی دھاری والا کیڑا بھنبھنائے تو اکثر سب اسے «شہد کی مکھی» کہہ دیتے ہیں، حالانکہ بہت بار وہ بھڑ ہوتی ہے۔ سیدھا جواب یہ ہے: شہد کی مکھی کا جسم بالوں والا اور رنگ ہلکا سنہری بھورا ہوتا ہے، اور وہ پھولوں پر رہتی ہے، جبکہ بھڑ کا جسم چکنا اور چمکدار، رنگ تیز پیلا اور کالا ہوتا ہے، وہ کیڑے بھی پکڑتی ہے اور بار بار ڈنک مار سکتی ہے۔ امریکہ کی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے مکھی معائنہ کے شعبے کے مطابق یہی سب سے آسان پہچان ہے۔

1. جسم: بال یا چکنا

شہد کی مکھی کے جسم اور ٹانگوں پر بال ہوتے ہیں، جبکہ بھڑ کا جسم عموماً چکنا اور چمکدار ہوتا ہے۔ یہی بال مکھی کے کام آتے ہیں: پھول پر بیٹھتے ہوئے زرِ گل (پولن) ان میں چپک جاتا ہے، اور مکھی اسے چھتے تک لے جاتی ہے۔ بھڑ کا جسم بالوں کے بغیر ہونے کی وجہ سے وہ زرِ گل نہیں اٹھاتی۔

بھڑ عموماً شہد کی مکھی سے زیادہ پتلی ہوتی ہے، جبکہ شہد کی مکھی بھری بھری اور گول مٹول نظر آتی ہے۔

2. رنگ: ہلکا یا تیز

بھڑ کا رنگ اور دھاریاں شہد کی مکھی کے مقابلے میں زیادہ تیز اور نمایاں ہوتی ہیں۔ اکثر بھڑوں کا رنگ چمکدار پیلا اور کالا ہوتا ہے۔ شہد کی مکھی کا رنگ زیادہ تر سنہری، بھورا اور ہلکا ہوتا ہے، اور بالوں کی وجہ سے وہ کچھ دھندلی سی لگتی ہے۔

3. خوراک: پھول یا کیڑے

شہد کی مکھیاں پھولوں کا رس اور زرِ گل جمع کرتی ہیں، جبکہ بھڑیں رس کے ساتھ ساتھ دوسرے کیڑے بھی پکڑتی ہیں اور انہیں اپنے گوشت خور بچوں کو کھلاتی ہیں۔ یعنی شہد صرف شہد کی مکھی بناتی ہے۔ رس سے شہد کیسے بنتا ہے، یہ یہاں پڑھیں۔

4. گھر: موم یا کاغذ

شہد کی مکھی کا چھتا موم کا ہوتا ہے، جبکہ بھڑ کا گھونسلا کاغذ جیسا ہوتا ہے۔ امریکہ کی نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے مطابق بھڑیں لکڑی کے ریشے چبا کر سرمئی، کاغذ جیسے خانے بناتی ہیں، اکثر چھجوں، کھڑکیوں کے کناروں اور برآمدوں کے نیچے۔ اگر آپ کے چھجے کے نیچے سرمئی کاغذی گھونسلا ہے تو وہ تقریباً یقیناً بھڑ کا ہے، شہد کی مکھی کا نہیں۔

5. ڈنک: ایک بار یا بار بار

شہد کی مکھی کا ڈنک کانٹے دار ہوتا ہے اور جلد میں پھنس جاتا ہے، اس لیے مزدور مکھی ایک ہی بار ڈنک مار سکتی ہے اور پھر مر جاتی ہے۔ بھڑ بار بار ڈنک مار سکتی ہے۔ شہد کی مکھی کا ڈنک لگ جائے تو کیا کریں، یہ ہماری تحریر شہد کی مکھی ڈنک مار دے تو میں قدم بہ قدم ہے۔ اگر سانس میں دقت ہو، یا ہونٹ، زبان یا گلا سوجنے لگے، تو ڈنک کسی کا بھی ہو، فوراً 1122 پر فون کریں۔

ایک نظر میں

شہد کی مکھیبھڑ
جسمبالوں والا، بھرا بھراچکنا، چمکدار، پتلا
رنگسنہری بھورا، ہلکاتیز پیلا اور کالا
خوراکپھولوں کا رس اور زرِ گلرس، اور دوسرے کیڑے
گھرموم کا چھتاکاغذ جیسا گھونسلا
ڈنکایک باربار بار

اور ہماری «بڑی مکھی»؟

ہمارا شہد چھوٹی مکھی اور بڑی مکھی (ڈُمنا) کے جنگلی چھتوں سے آتا ہے۔ بڑی مکھی بھی شہد کی مکھی ہی ہے، بھڑ نہیں: اس کا سائنسی نام Apis dorsata ہے، اور یہ اونچے درختوں اور چٹانوں پر موم کے بڑے بڑے چھتے بناتی ہے۔ دونوں مکھیوں کا فرق یہاں پڑھیں۔

چھوٹی مخلوق، بڑا سبق

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا» «اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔» (سورۃ البقرہ، 2:26؛ ترجمہ تفہیم القرآن)

مچھر جیسی چھوٹی چیز بھی اللہ کی نشانی ہے۔ شہد کی مکھی اور بھڑ دونوں اسی کی مخلوق ہیں، اور دونوں کی اپنی اپنی جگہ ہے: ایک ہمیں شہد دیتی ہے اور پھولوں کو بار آور کرتی ہے، دوسری بہت سے کیڑے کھا جاتی ہے۔ مکھیاں ہماری خوراک کے لیے کتنی اہم ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔

مکھیوں یا شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413

حوالہ جات

تمام تحریریں ←
گہرے بھورے پس منظر پر عنوان «شہد اور دار چینی: ہر مرض کا علاج؟» اور دو کالم: دائیں کریم رنگ کے کالم میں وائرل پیغام کے تین دعوے سرخ کراس کے ساتھ، بائیں گہرے کالم میں تین حقیقتیں سبز نشان کے ساتھ، نیچے لکھا ہے کہ بیماری میں ڈاکٹر سے پوچھیں۔

شہد اور دار چینی سے ہر بیماری کا علاج؟ واٹس ایپ پر چلنے والے پیغام کی حقیقت

شہد اور دار چینی سے دل، جوڑوں، وزن اور درجنوں بیماریوں کے علاج والا پیغام 1995 کے ایک سنسنی خیز امریکی اخبار سے چلا، کسی تحقیق سے نہیں۔ امریکی ادارۂ صحت کے مطابق دار چینی کا کسی مرض میں فائدہ واضح طور پر ثابت نہیں۔ مکمل حقیقت۔

گہرے سبز پس منظر پر عنوان «کیا شہد سے نیند آتی ہے؟»، اس کے نیچے لکھا ہے کہ پکا ثبوت ابھی نہیں، اور کریم رنگ کے کاغذ پر این ایچ ایس کی پانچ عادتیں: روز ایک وقت پر اٹھنا، سونے سے پہلے آرام، اندھیرا اور خاموش کمرہ، شام کو چائے کافی نہیں، اور سونے سے پہلے موبائل نہیں۔

کیا شہد سے نیند آتی ہے؟ سائنس ابھی کیا کہتی ہے، اور اچھی نیند کی 5 آزمودہ عادتیں

رات کو شہد سے بہتر نیند آنے کا کوئی پکا سائنسی ثبوت ابھی نہیں: بڑوں پر اس کی ایک باقاعدہ تحقیق کے نتائج اب تک شائع نہیں ہوئے۔ اچھی نیند کے لیے این ایچ ایس جو عادتیں بتاتی ہے، وہ اس تحریر میں ہیں۔

ہلکے سبز پس منظر پر عنوان «مکھی ڈنک مار دے تو؟» اور چار سبز پٹیوں میں چار قدم: ڈنک کھرچ کر نکالیں، صابن سے دھوئیں، 20 منٹ برف رکھیں، جگہ اونچی رکھیں؛ نیچے سرخ کنارے والی پٹی میں خطرے کی نشانیوں پر 1122 پر فون کرنے کی ہدایت۔

شہد کی مکھی ڈنک مار دے تو کیا کریں؟ ڈنک نکالنے سے ہسپتال جانے تک، آسان ابتدائی طبی امداد

شہد کی مکھی کا ڈنک جلد میں رہ جاتا ہے، اس لیے اسے فوراً ناخن یا کارڈ سے کھرچ کر نکالیں، صابن سے دھوئیں اور 20 منٹ ٹھنڈی سکائی کریں۔ سانس میں دقت یا ہونٹ اور گلا سوجنے پر فوراً 1122 پر فون کریں۔ مکمل رہنمائی، این ایچ ایس کے مطابق۔