مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد کی مکھی ڈنک مار دے تو کیا کریں؟ ڈنک نکالنے سے ہسپتال جانے تک، آسان ابتدائی طبی امداد

شہد کی مکھی کا ڈنک جلد میں رہ جاتا ہے، اس لیے اسے فوراً ناخن یا کارڈ سے کھرچ کر نکالیں، صابن سے دھوئیں اور 20 منٹ ٹھنڈی سکائی کریں۔ سانس میں دقت یا ہونٹ اور گلا سوجنے پر فوراً 1122 پر فون کریں۔ مکمل رہنمائی، این ایچ ایس کے مطابق۔

5 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
ہلکے سبز پس منظر پر عنوان «مکھی ڈنک مار دے تو؟» اور چار سبز پٹیوں میں چار قدم: ڈنک کھرچ کر نکالیں، صابن سے دھوئیں، 20 منٹ برف رکھیں، جگہ اونچی رکھیں؛ نیچے سرخ کنارے والی پٹی میں خطرے کی نشانیوں پر 1122 پر فون کرنے کی ہدایت۔

شہد کی مکھی ڈنک مار دے تو سب سے پہلا کام یہ ہے: ڈنک کو فوراً ناخن یا کسی کارڈ کے کنارے سے ایک طرف کھرچ کر نکالیں، پھر جگہ کو صابن اور پانی سے دھوئیں اور کپڑے میں لپٹی برف کم از کم 20 منٹ رکھیں۔ زیادہ تر لوگوں میں درد اور سوجن چند دن میں خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر سانس لینے میں دقت ہو، یا ہونٹ، زبان اور گلا اچانک سوجنے لگیں، تو یہ ایمرجنسی ہے: فوراً 1122 پر فون کریں۔

ڈنک جلد میں کیوں رہ جاتا ہے؟

شہد کی مکھی کا ڈنک کانٹے دار ہوتا ہے، اس لیے انسان کی جلد میں پھنس کر وہیں رہ جاتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرینِ حشرات بتاتے ہیں کہ مکھی جب اڑنے کی کوشش کرتی ہے تو ڈنک کے ساتھ زہر کی تھیلی اور اس کے پیٹ کا آخری حصہ بھی الگ ہو جاتا ہے، اور مکھی مر جاتی ہے۔ ڈنک لگنے کے بعد بھی زہر 45 سے 60 سیکنڈ تک اندر جاتا رہتا ہے، اسی لیے ڈنک جتنی جلدی نکلے، اتنا اچھا۔

یعنی مکھی اپنی جان دے کر ڈنک مارتی ہے۔ ایک مزدور مکھی کی پوری زندگی یہاں پڑھیں۔

قدم بہ قدم: ڈنک لگنے کے بعد کیا کریں

برطانیہ کی سرکاری صحت سروس (NHS) یہ طریقہ بتاتی ہے:

  1. ڈنک نکالیں: ناخن یا بینک کارڈ کے کنارے سے ڈنک کو ایک طرف کھرچیں۔
  2. دھوئیں: جگہ کو صابن اور پانی سے دھو لیں۔
  3. ٹھنڈی سکائی: اگر سوجن ہو تو کپڑے میں لپٹی برف، یا ٹھنڈے پانی میں بھیگا صاف کپڑا، کم از کم 20 منٹ رکھیں۔
  4. جگہ اونچی رکھیں: ہو سکے تو ڈنک والا ہاتھ یا پاؤں اونچا رکھیں۔
  5. کھجائیں نہیں: کھجانے سے زخم میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

درد اور خارش کے لیے NHS پیراسیٹامول یا آئبوپروفین، خارش کے لیے اینٹی ہسٹامین گولی، اور سوجن کے لیے ہائیڈروکورٹیزون کریم بتاتی ہے۔ کوئی بھی دوا لینے سے پہلے فارماسسٹ یا ڈاکٹر سے پوچھ لیں، خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے دوا لینے والوں کے لیے۔

یہ نشانیاں ایمرجنسی ہیں: فوراً 1122

کچھ لوگوں کو ڈنک سے شدید الرجی (اینافلیکسس) ہو جاتی ہے، جو جان لیوا ہو سکتی ہے۔ NHS کے مطابق اگر ڈنک کے بعد ان میں سے کوئی بھی نشانی ہو تو فوراً ایمرجنسی نمبر پر فون کریں، پاکستان میں ریسکیو 1122:

  • ہونٹ، منہ، گلا یا زبان اچانک سوج جائے
  • سانس بہت تیز ہو جائے یا سانس لینے میں مشکل ہو
  • گلا تنگ محسوس ہو یا نگلنے میں دقت ہو
  • جلد، زبان یا ہونٹ نیلے، سرمئی یا پیلے پڑ جائیں
  • اچانک چکر، غنودگی یا الجھن ہو
  • بندہ بے ہوش ہو جائے، یا بچہ ڈھیلا پڑ جائے اور جواب نہ دے

ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟

ایمرجنسی نہ ہو، تب بھی ان صورتوں میں ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے رجوع کریں:

  • ڈنک منہ، گلے یا آنکھ کے قریب لگا ہو
  • آپ کو پہلے کبھی ڈنک یا کیڑے کے کاٹنے سے شدید الرجی ہو چکی ہو
  • علامات بہتر ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہوں
  • جگہ گرم، سرخ اور سوجی ہو، یا اس سے پیپ نکلے (انفیکشن کی نشانی)
  • 12 مہینے سے کم عمر بچے کو ڈنک لگا ہو

مکھی کو مارنا نہیں، بچنا ہے

ڈنک کا درد اپنی جگہ، مگر شہد کی مکھی ہماری دشمن نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:

«نبی کریم ﷺ نے چار جانداروں کو مارنے سے منع فرمایا: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد اور لٹورا (صُرَد) پرندہ۔» (سنن ابی داؤد، 5267؛ علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے)

مکھیاں ہمارے کھیتوں اور باغوں کے پھولوں کو بار آور کرتی ہیں، اور شہد بھی انہی کی محنت ہے۔ وہ ہماری خوراک کے لیے کتنی اہم ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔ اور جو لوگ جنگلی چھتوں سے شہد اتارتے ہیں، وہ ڈنک کے خطرے کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں، یہ شہد کے شکاری میں دیکھیں۔

یاد رکھیں

  • ڈنک جتنی جلدی نکلے، اتنا بہتر۔
  • برف براہِ راست جلد پر نہ رکھیں، ہمیشہ کپڑے میں لپیٹ کر رکھیں۔
  • جسے ڈنک سے شدید الرجی ہو چکی ہو، وہ ڈاکٹر سے پوچھ کر ایمرجنسی کے لیے پہلے سے تیاری رکھے۔

مکھیوں یا شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413

یہ تحریر عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ شدید علامات میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں یا 1122 پر فون کریں۔

حوالہ جات

تمام تحریریں ←
کریم رنگ کے پس منظر پر سبز دائرے میں سنہری حروف میں لفظ «ناب»، عنوان «ناب کا مطلب کیا ہے؟»، اور نیچے شہد (عربی سے) جمع ناب (فارسی سے) برابر شہدِ ناب، یعنی خالص شہد۔

ناب کا مطلب کیا ہے؟ ہمارے نام «شہدِ ناب» کی کہانی: عربی کا شہد، فارسی کا ناب

«ناب» فارسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے خالص، بغیر ملاوٹ، اصل اور صاف۔ «شہد» عربی سے آیا ہے، جہاں یہ چھتے کے موم میں بھرے شہد کو کہتے ہیں۔ دونوں مل کر «شہدِ ناب» بنے، یعنی خالص شہد۔ ہمارے نام کی پوری کہانی۔

گہرے رنگ کے پس منظر پر شہد کے چار قطرے اور ایک چھتے کا خانہ، جن کے نیچے بیری، کیکر، بہار، توت اور چھتا لکھا ہے، اور عنوان: کون سا شہد آپ کے لیے؟

کون سا شہد آپ کے لیے؟ بیری، کیکر، بہار، توت اور خالص چھتا: ذائقہ، رنگ اور موسم کا فرق

بیری گاڑھا اور گہرا سنہری، کیکر درمیانہ میٹھا، بہار ہلکا اور خوشبودار، توت تقریباً سیاہ، اور خالص چھتا موم کے خانوں سمیت۔ ہمارے پانچ شہدوں کا آسان موازنہ، اور یہ کہ اپنی پسند کا شہد کیسے چنیں۔

رات بھر بھیگے دلیے کے 4 ذائقے شہد کے ساتھ: کیلا اور دار چینی، سیب اور اخروٹ، کھجور اور بادام، اور انار

رات بھر بھیگا دلیہ (اوورنائٹ اوٹس): رات کو 5 منٹ، صبح بغیر چولہے کے تیار ناشتہ، شہد کے 4 ذائقوں کے ساتھ

اوورنائٹ اوٹس یعنی رات بھر بھیگا دلیہ: رات کو جو (اوٹس) دودھ میں بھگو کر فریج میں رکھ دیں، صبح بغیر پکائے نرم اور تیار ملے گا۔ جانیے بنیادی ترکیب، شہد کب اور کتنا ڈالیں، اور کیلے، سیب، کھجور اور انار کے ساتھ اس کے 4 ذائقے۔