شہد کے شکاری: جنگلی چھتے سے شہد کیسے اتارا جاتا ہے، اور مکھیاں کیسے بچائی جائیں
اونچے درختوں اور چٹانوں سے جنگلی چھتا اتارنا صدیوں پرانا ہنر ہے۔ جانیے شہد کے شکاری چھتا کیسے اتارتے ہیں، کون سے طریقے مکھیوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور کون سے انہیں بچاتے ہیں، اور اسلام مکھی کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔
◆4 منٹ کا مطالعہ

کسی اونچے شیشم یا بیری کے درخت پر لٹکا ڈُمنا کا بڑا سا چھتا دیکھ کر اکثر سوال آتا ہے: اتنی اونچائی سے، ہزاروں مکھیوں کے بیچ سے، شہد اتارا کیسے جاتا ہے؟ اس کام کو کرنے والوں کو شہد کا شکاری کہا جاتا ہے، اور یہ دنیا کے قدیم ترین ہنروں میں سے ایک ہے۔
جنگلی چھتا: پالتو ڈبے سے الگ
ہماری دونوں جنگلی مکھیاں، چھوٹی مکھی اور ڈُمنا، ڈبوں میں نہیں پالی جاتیں۔ یہ کھلے میں ایک ہی بڑا چھتا بناتی ہیں: چھوٹی مکھی جھاڑیوں پر، اور ڈُمنا اونچے درختوں، چٹانوں اور عمارتوں پر۔ دونوں کا فرق یہاں پڑھیں۔
ڈُمنا کے چھتے کی ایک خاص بات ہے: اس کے اوپر والے حصے میں عموماً شہد جمع ہوتا ہے، اور نیچے کے بڑے حصے میں بچے (انڈے اور لاروے) اور زرِ گل۔
شکاری چھتا کیسے اتارتے ہیں؟
طریقے علاقوں کے ساتھ بدلتے ہیں، مگر عام طور پر:
- دھواں: سوکھی گھاس یا پتوں کا دھواں دیا جاتا ہے، جس سے مکھیاں پرسکون ہو کر چھتے سے ہٹ جاتی ہیں۔
- چڑھائی: شکاری رسیوں یا سیڑھی سے درخت یا چٹان پر چڑھتا ہے۔
- کٹائی: چاقو سے چھتے کا حصہ کاٹ کر ٹوکری یا برتن میں اتارا جاتا ہے۔
یہ خطرناک کام ہے: اونچائی بھی، اور ڈُمنا کے ڈنک بھی۔ اسی لیے یہ ہنر عموماً تجربہ کار لوگ ہی کرتے ہیں۔
نقصان دہ طریقے، اور بہتر طریقے
2025 میں جریدے Insects میں چھپی ایک تحقیق کے مطابق ڈُمنا کی تعداد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ نقصان دہ شکار ہے: چھتوں کو آگ لگا دینا اور زیادہ دھوئیں سے بڑی تعداد میں مکھیوں کو مار دینا۔ دوسری بڑی وجہ گھونسلے کی جگہوں کا ختم ہونا ہے، یعنی اونچے درختوں کا کٹنا۔
اس کے مقابلے میں بہتر طریقے یہ ہیں:
- آگ نہیں، ہلکا دھواں: مقصد مکھیوں کو ہٹانا ہے، جلانا نہیں۔ اسی تحقیق میں پانی کے چھڑکاؤ سے مکھیوں کو پرسکون کرنے کا طریقہ بھی آزمایا گیا۔
- صرف شہد والا حصہ: چھتے کا شہد والا حصہ کاٹا جائے اور بچوں والا حصہ جہاں ممکن ہو چھوڑ دیا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کی رہنمائی بھی کہتی ہے کہ شہد کو بچوں اور زرِ گل سے الگ کاٹا جائے۔
- صحیح موسم: FAO کے ایک منصوبے میں کٹائی اس موسم تک محدود رکھی گئی جب چھتے میں بچے کم ہوں، تاکہ کم سے کم مکھیاں مریں۔
- درخت بچائیں: جو اونچے درخت ڈُمنا کا گھر ہیں، انہیں کاٹنے سے بچانا بھی مکھیوں کی حفاظت ہے۔
ڈُمنا ویسے بھی موسم کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتی ہے، اس کی کہانی یہاں پڑھیں۔
مکھی کو مارنے سے منع فرمایا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
«نبی کریم ﷺ نے چار جانداروں کو مارنے سے منع فرمایا: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد اور لٹورا (ایک چھوٹا شکاری پرندہ)۔» (سنن ابی داؤد، 5267)
یہ حدیث شہد کے ہر شکاری اور ہر شہد کھانے والے کے لیے سبق ہے: شہد لینا جائز ہے، مگر مکھیوں کو بلاوجہ مارنا نہیں۔ ذمہ دار شکار وہی ہے جو شہد لے اور مکھی کو زندہ چھوڑ دے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
- پھولدار درخت لگائیں: بیری، کیکر، شیشم اور سفیدہ جیسے مقامی درخت مکھیوں کی خوراک بھی ہیں اور گھر بھی۔ تفصیل اس تحریر میں۔
- گھر پر چھتا لگ جائے تو اسے آگ یا اسپرے سے نہ ماریں۔ کسی تجربہ کار شخص کو بلا کر محفوظ طریقے سے ہٹوائیں۔
- سوال پوچھیں: شہد خریدتے وقت پوچھیں کہ یہ کہاں سے اور کس موسم کا ہے۔
مکھیاں رس کو شہد کیسے بناتی ہیں، یہ یہاں پڑھیں، اور ہماری جنگلی مکھیوں کے بارے میں مزید مکھیوں والے صفحے پر۔
مکھیوں یا شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔
مزید پڑھیں
تمام تحریریں ←
خالص چھتا: شہد اپنی اصل شکل میں، موم کے خانوں سمیت، کیسے کھائیں اور کیسے رکھیں
کبھی شہد کو اس کے اصل گھر، یعنی موم کے چھ کونوں والے خانوں میں دیکھا اور چکھا ہے؟ جانیے خالص چھتا کیا ہوتا ہے، اس کا موم کھایا جا سکتا ہے یا نہیں، اسے کھانے کے مزیدار طریقے، رکھنے کا صحیح انداز، اور جار والے شہد سے اس کا فرق۔
مکمل پڑھیں ←
شہد اور کھجور: ناشتے کے 5 آسان اور مزیدار طریقے، بغیر چولہے کے
صبح جلدی ہو اور ناشتہ بھی اچھا چاہیے؟ کھجور اور شہد سے بنیں 5 آسان چیزیں: کھجور والا دودھ، دلیہ، بغیر پکائے لڈو، دہی کا پیالہ اور بھری ہوئی کھجوریں۔ ساتھ مقدار کا خیال، بچوں کے لیے احتیاطیں، اور کھجور کے بارے میں ایک پیاری حدیث۔
مکمل پڑھیں ←
مکھیوں کا ناچ: شہد کی مکھی دوسری مکھیوں کو پھولوں کا راستہ کیسے بتاتی ہے؟
ایک مکھی کو دور کہیں پھولوں سے بھرا درخت ملتا ہے، اور کچھ ہی دیر میں سیکڑوں مکھیاں وہاں پہنچ جاتی ہیں۔ انہیں راستہ کس نے بتایا؟ جانیے مکھیوں کے مشہور «ناچ» کا راز، جس پر نوبل انعام ملا: ناچ کا رخ سمت کیسے بتاتا ہے، لمبائی فاصلہ کیسے، اور ہماری چھوٹی مکھی کا ناچ کیوں الگ ہے۔
مکمل پڑھیں ←