اگر شہد کی مکھیاں نہ رہیں تو؟ ہماری خوراک اور مکھیوں کا گہرا رشتہ
شہد کی مکھیاں صرف شہد نہیں بناتیں، وہ ہمارے پھلوں، سبزیوں اور میوؤں کے پیچھے بھی چھپی ہیں۔ جانیے پولینیشن کیا ہے، دنیا بھر میں مکھیاں کیوں کم ہو رہی ہیں، اور ہم اپنے گھر، کھیت اور گلی میں ان کی حفاظت کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔
◆5 منٹ کا مطالعہ

ہم عام طور پر شہد کی مکھی کو صرف شہد سے جوڑتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہماری پلیٹ میں موجود بہت سا کھانا بھی مکھیوں اور دوسرے کیڑوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ آج بات کرتے ہیں کہ مکھیاں ہمارے لیے کتنی اہم ہیں، وہ کیوں کم ہو رہی ہیں، اور ہم کیا کر سکتے ہیں۔
پولینیشن کیا ہے؟
پودوں کو پھل اور بیج بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک پھول کا زرِ گل (پولن) دوسرے پھول تک پہنچے۔ اسے پولینیشن یا زیرگی کہتے ہیں۔ کچھ پودوں میں یہ کام ہوا کر دیتی ہے، مگر بہت سے پودوں کو اس کے لیے کسی «پیغام رساں» کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ پیغام رساں ہیں: مکھیاں، تتلیاں، پرندے، چمگادڑ اور دوسرے کیڑے۔ جب شہد کی مکھی رس چوسنے پھول پر بیٹھتی ہے تو اس کے جسم پر زرِ گل لگ جاتا ہے، اور اگلے پھول پر جا کر وہ یہ زرِ گل وہاں چھوڑ دیتی ہے۔ یوں انجانے میں وہ پھل اور بیج بننے کا راستہ کھول دیتی ہے۔ مکھی رس سے شہد کیسے بناتی ہے، یہ ہماری اس تحریر میں پڑھیں۔
ہماری خوراک میں مکھیوں کا حصہ
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق:
- دنیا کی 75 فیصد سے زیادہ غذائی فصلیں کسی نہ کسی حد تک پولینیشن پر انحصار کرتی ہیں۔
- دنیا کے تقریباً 90 فیصد جنگلی پھولدار پودے مکمل یا جزوی طور پر جانوروں کی زیرگی پر منحصر ہیں۔
- دنیا میں 20 ہزار سے زیادہ قسم کی مکھیاں ہیں، اور دو لاکھ سے زیادہ قسم کے جاندار زیرگی کا کام کرتے ہیں۔
FAO کے مطابق اگر مکھیاں اور یہ کیڑے کم ہوتے گئے تو سیب، بادام، ٹماٹر، کافی اور کوکو جیسی چیزیں متاثر ہوں گی، اور پھل، میوے اور سبزیاں کم ہو کر ان کی جگہ چاول اور مکئی جیسی فصلیں لیتی جائیں گی۔ یعنی مسئلہ صرف شہد کا نہیں، ہماری غذا کے توازن کا ہے۔
مکھیاں کم کیوں ہو رہی ہیں؟
FAO دنیا بھر میں مکھیوں کی کمی کی بڑی وجوہات یہ بتاتا ہے:
- زیادہ کیمیکل اور کیڑے مار دوائیں
- ایک ہی فصل کے بڑے بڑے کھیت، جن میں مکھیوں کے لیے سال بھر پھول نہیں ہوتے
- جنگلات اور قدرتی جھاڑیوں کا کٹنا
- بڑھتا ہوا درجۂ حرارت اور موسم کی تبدیلی
پاکستان کی جنگلی مکھیاں، جیسے ڈُمنا اور چھوٹی مکھی، انسانوں کی پالی ہوئی نہیں۔ وہ مکمل طور پر جنگلوں، درختوں اور جھاڑیوں پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے درخت کٹنے کا اثر ان پر سیدھا پڑتا ہے۔ ان مکھیوں کے بارے میں مزید یہاں پڑھیں۔
درخت لگانا: صدقۂ جاریہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «جو مسلمان کوئی درخت لگائے یا کھیتی بوئے، پھر اس میں سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔» (صحیح بخاری، 2320)
سوچیں، جب کوئی مکھی آپ کے لگائے درخت کے پھول سے رس لیتی ہے، اور اس سے بنا شہد کسی کے دسترخوان تک پہنچتا ہے، تو یہ نیکی کتنی دور تک جاتی ہے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
گھر میں:
- گملوں، صحن یا چھت پر پھولدار پودے لگائیں۔ FAO کے سربراہ کے الفاظ میں، گھر میں مکھیوں کے لیے پھول اگانا بھی اس کوشش کا حصہ ہے۔
- گرمیوں میں ایک کم گہرے برتن میں پانی رکھیں اور اس میں چند کنکر ڈال دیں تاکہ مکھیاں ڈوبے بغیر پانی پی سکیں۔
گلی محلے اور گاؤں میں:
- بیری، کیکر، پھلائی اور شیشم جیسے مقامی درخت لگائیں اور بچائیں۔ یہی درخت ہماری جنگلی مکھیوں کا کھانا ہیں۔
- عمارت یا درخت پر جنگلی چھتا ہو تو اسے آگ لگا کر یا کیمیکل سے ختم نہ کریں۔ اگر خطرہ ہو تو کسی تجربہ کار شہد اتارنے والے سے رابطہ کریں۔
کھیت میں:
- پھول کھلنے کے دنوں میں ایسی دوائیں چھڑکنے سے بچیں جو مکھیوں کے لیے زہریلی ہوں۔
- اگر اسپرے ضروری ہو تو شام کے آخری پہر کریں، جب مکھیاں کام پر نہیں ہوتیں۔ امریکی جامعہ اوہائیو اسٹیٹ کی زرعی رہنمائی کے مطابق شہد کی مکھیاں عموماً غروبِ آفتاب کے ایک گھنٹے بعد سے طلوعِ آفتاب سے دو گھنٹے پہلے تک باہر نہیں نکلتیں۔
- دوائی کے لیبل پر مکھیوں کے بارے میں ہدایات ضرور پڑھیں۔
خلاصہ
شہد کی مکھی ایک چھوٹا سا جاندار ہے، مگر ہماری خوراک، ہمارے جنگلوں اور ہمارے شہد کا بہت بڑا سہارا ہے۔ ایک درخت، چند گملے، یا اسپرے کا صحیح وقت، یہ سب چھوٹے قدم ہیں، مگر مل کر بڑا فرق ڈالتے ہیں۔
مکھیوں یا شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔
مزید پڑھیں
تمام تحریریں ←
شادیوں کے موسم میں شہد کا تحفہ: میٹھا، قدرتی اور یادگار
شادی، منگنی، بچے کی پیدائش یا کسی بزرگ کی عیادت: شہد ایسا تحفہ ہے جو ہر گھر میں کام آتا ہے اور دیر تک یاد رہتا ہے۔ جانیے کس موقع پر کون سا شہد دیں، چھوٹی مکھی یا بڑی مکھی، کتنی مقدار، اور وہ ایک ضروری احتیاط جو نومولود بچے کے گھر شہد لے جاتے وقت ہر کسی کو معلوم ہونی چاہیے۔
مکمل پڑھیں ←
شہد میں ملاوٹ کیسے ہوتی ہے؟ پانچ طریقے جو ہر خریدار کو معلوم ہونے چاہئیں
جعلی شہد صرف چینی کا شیرا نہیں ہوتا۔ شیرے کی ملاوٹ، مکھیوں کو چینی کھلانا، سستے شہد کا مکس، کچا شہد اتار کر مشینوں میں گاڑھا کرنا اور غلط نام سے بیچنا: جانیے ملاوٹ کے یہ پانچ طریقے کیسے کام کرتے ہیں، گھریلو ٹیسٹ انہیں کیوں نہیں پکڑ پاتے، اور خریدتے وقت خود کو کیسے بچائیں۔
مکمل پڑھیں ←
شہد کی مکھی شہد کیسے بناتی ہے؟ پھول سے چھتے تک کا سفر
شہد صرف پھولوں کا رس نہیں۔ پھول کے رس کو شہد بننے میں مکھیوں کی کئی دن کی محنت لگتی ہے: رس جمع کرنا، اس میں اپنے خامرے ملانا، پروں سے ہوا دے کر پانی سکھانا، اور آخر میں موم سے خانہ بند کرنا۔ جانیے یہ سفر کیسے مکمل ہوتا ہے، اور جنگلی چھوٹی مکھی اور ڈُمنا اسے کیسے سر انجام دیتی ہیں۔
مکمل پڑھیں ←