جنگلی شہد کہاں بنتا ہے؟ پاکستان کے وہ جنگل جہاں جنگلی مکھیاں خود چھتے بناتی ہیں
پاکستان کا جنگلی شہد زیادہ تر تین قسم کے قدرتی جنگلوں سے آتا ہے: دریائے سندھ کے میدانوں کے کانٹے دار جنگل (بیری، جنڈ)، پہاڑوں کے دامن کے جھاڑی دار جنگل (پھلائی، کہو)، اور دریا کنارے کے بیلا جنگل (کیکر، لئی)۔ ان جنگلوں، ان کی مکھیوں اور ان کو درپیش خطرے کی کہانی۔
◆6 منٹ کا مطالعہ

جب ہم «جنگلی شہد» کہتے ہیں تو سوال اٹھتا ہے: آخر وہ جنگل ہیں کہاں؟ سیدھا جواب یہ ہے: پاکستان کا جنگلی شہد زیادہ تر تین قسم کے قدرتی جنگلوں سے آتا ہے: دریائے سندھ کے میدانوں کے کانٹے دار جنگل، پہاڑوں کے دامن کے جھاڑی دار جنگل، اور دریاؤں کے کنارے کے بیلا جنگل۔ ان میں تین قسم کی جنگلی مکھیاں، ڈُمنا (بڑی مکھی)، چھوٹی مکھی اور پہاڑی مکھی، خود درختوں، جھاڑیوں اور چٹانوں پر چھتے بناتی ہیں۔
1. کانٹے دار جنگل: میدانوں کا جنگل
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کی رپورٹ کے مطابق یہ جنگل دریائے سندھ کے تقریباً سارے میدان میں پھیلے ہیں، سوائے سب سے خشک حصوں کے۔ یہ کھلے، کم اونچے جنگل ہیں جن میں کم پانی پر جینے والے کانٹے دار درخت زیادہ ہیں۔
ان کے بڑے درخت ہیں:
- بیری (Ziziphus mauritiana)
- جنڈ (Prosopis cineraria)
- کریر (Capparis decidua)
- فراش (Tamarix aphylla)
- وَن یا پیلو (Salvadora oleoides)
بیری انہی جنگلوں کا خاص درخت ہے، اور خزاں میں اس کے پھولوں سے بیری کا شہد بنتا ہے۔ اس کی پوری کہانی بیری کا شہد میں پڑھیں۔
2. جھاڑی دار جنگل: پہاڑوں کا دامن
یہ جنگل ہمالیہ کے دامن، نمک کے پہاڑی سلسلے (سالٹ رینج)، کالا چٹا اور کوہِ سلیمان کی نچلی ڈھلوانوں پر ہیں، اور FAO کے مطابق ان کا رقبہ تقریباً 11 لاکھ 91 ہزار ہیکٹر ہے۔ ان کے دو خاص درخت ہیں: پھلائی (Acacia modesta) اور کہو یعنی جنگلی زیتون (Olea cuspidata)۔ کہیں یہ دونوں ملے جلے اگتے ہیں، کہیں اکیلے۔
پوٹھوہار اور کوہاٹ کا پھلائی کا شہد انہی ڈھلوانوں سے آتا ہے۔ اس کا تعارف پھلائی کا شہد میں ہے۔
3. بیلا جنگل: دریا کے کنارے
دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر اگنے والے جنگلوں کو «بیلا» جنگل کہتے ہیں۔ یہ نہری پانی سے نہیں بلکہ دریا کے سیلابی پانی سے پلتے ہیں۔ سندھ میں یہ سب سے زیادہ ہیں: سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق سندھ میں ان کا رقبہ تقریباً 2 لاکھ 41 ہزار ہیکٹر ہے، ٹھٹھہ سے لے کر گھوٹکی اور جیکب آباد تک۔
ان کے درخت ہیں کیکر یا ببول (Acacia nilotica)، بھن (Populus euphratica)، لئی اور فراش (Tamarix)۔ کیکر کے پیلے، گول پھول مکھیوں کو بہت بھاتے ہیں، اور کیکر کا شہد انہی سے بنتا ہے۔
ان جنگلوں کی تین جنگلی مکھیاں
پاکستان میں شہد کی مکھیوں کے پھولوں پر 1978 کی ایک تحقیق (Honey Bee Flora of Pakistan) بتاتی ہے کہ یہاں شہد کی تین مقامی مکھیاں ہیں، اور ہر ایک کا اپنا علاقہ ہے:
| مکھی | کہاں ملتی ہے |
|---|---|
| ڈُمنا (بڑی مکھی، Apis dorsata) | تقریباً سارے میدانوں، پہاڑوں کے دامن اور پہاڑوں میں |
| چھوٹی مکھی (Apis florea) | صحرا اور اونچے پہاڑوں کے سوا تقریباً سارے پاکستان میں |
| پہاڑی مکھی (Apis cerana) | زیادہ تر شمالی علاقوں کے پہاڑوں اور ان کے دامن میں |
2025 کی ایک تحقیق کے مطابق ڈُمنا عموماً زمین سے 3 سے 25 میٹر اونچا کھلا چھتا بناتی ہے، اونچے درختوں اور پہاڑی جگہوں پر۔ چھوٹی مکھی جھاڑیوں اور ٹہنیوں پر ننھا سا چھتا بناتی ہے۔ دونوں کا فرق یہاں پڑھیں، اور جنگلی چھتوں سے شہد کیسے اتارا جاتا ہے، یہ شہد کے شکاری میں۔
چھانگا مانگا: لگایا ہوا جنگل
ان قدرتی جنگلوں کے علاوہ پنجاب میں چھانگا مانگا جیسے لگائے ہوئے جنگل بھی ہیں۔ یہ لاہور سے تقریباً 74 کلومیٹر دور 1866 میں لگایا گیا، اور اس کے بڑے درخت شیشم، کیکر اور توت ہیں۔ یہاں شہد مکھی پال اکٹھا کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی 2020 کی ایک رپورٹ کے مطابق جب یہاں نئے درخت لگے تو شہد کی پیداوار 2018-19 میں 725 کلو سے بڑھ کر 2019-20 میں تقریباً 1300 کلو ہو گئی۔ وہاں کے فارسٹ آفیسر کے بقول درخت مکھیوں کو پناہ، سایہ اور پانی دیتے ہیں۔
جنگل کم ہوں تو شہد بھی کم
2025 کی تحقیق کا اندازہ ہے کہ موسمی تبدیلی کی سخت ترین صورت میں 2061 سے 2080 تک پاکستان میں ڈُمنا کے لیے موزوں علاقے کا 79 فیصد تک ختم ہو سکتا ہے۔ بیلا جنگل بھی دریا میں پانی کم ہونے، کٹائی اور قبضوں سے سکڑ رہے ہیں۔ جنگلی شہد جنگل کا تحفہ ہے، اور جنگل نہ رہے تو یہ تحفہ بھی نہیں رہے گا۔ مکھیاں ہماری خوراک کے لیے کتنی اہم ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔ کون سا شہد کس موسم میں اترتا ہے، یہ پاکستان کا شہد کیلنڈر میں دیکھیں۔
پہاڑ، درخت اور مکھی
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
«وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ» مفہوم: «اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی کہ پہاڑوں میں، درختوں میں، اور ان چھپروں اور بیلوں میں جو لوگ بناتے ہیں، اپنے گھر بنا۔» (سورۃ النحل، 16:68)
پہاڑوں کی چٹانیں اور جنگل کے درخت، یہی وہ جگہیں ہیں جہاں آج بھی پاکستان کی جنگلی مکھیاں اپنے چھتے بناتی ہیں۔
جنگلی شہد یا مکھیوں کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413
حوالہ جات
- FAO, Pakistan: forest types (tropical thorn forests of the Indus plain and their species; sub-tropical broad-leaved evergreen (scrub) forests, 1,191,000 ha, with Olea cuspidata and Acacia modesta): https://www.fao.org/4/w7704e/w7704e03.htm
- Ahmad R., Anwar R., Khan S., Makhdoomi S.M.A., Qayyum A. (1978), Honey Bee Flora of Pakistan (distribution of A. cerana, A. dorsata and A. florea in Pakistan): https://digitalcommons.usu.edu/bee_lab_a/40
- Forecasting the Impact of Climate Change on Apis dorsata Habitat and Distribution in Pakistan, Insects (2025) (nests 3–25 m above ground; up to 79% of suitable habitat could be lost by 2061–2080 under the most extreme scenario): https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC11942931/
- APP, India's IWT violations threaten Sindh's Riverine Forests (about 241,198 ha of riverine forests in Sindh, the districts, and dependence on the Indus floods): https://www.app.com.pk/?p=1239371
- APP, Pakistan's Bela forests at risk (12 July 2026; dominant bela species babul, bahan and tamarix): https://www.app.com.pk/?p=1244311
- Reuters via Arab News, Pakistan's tree-planting push has a sweetener: more honey (7 July 2020; Changa Manga honey 725 kg in 2018-19, about 1,300 kg in 2019-20): https://arabnews.pk/node/1701091
- Wikipedia, Changa Manga (planted 1866, about 74 km from Lahore; sheesham, kikar, mulberry): https://en.wikipedia.org/wiki/Changa_Manga
مزید پڑھیں
تمام تحریریں ←
شہد چھتے سے بوتل تک کیسے پہنچتا ہے؟ مگس بان کے چھ مرحلے، FAO کی رہنمائی کے ساتھ
پکے ہوئے بند خانے چننے سے لے کر موم کی مہر ہٹانے، مشین میں گھمانے، چھاننے، ٹھہرانے اور بوتل بند کرنے تک: شہد نکالنے کے چھ مرحلے، اور ہر مرحلے میں کون سی غلطی شہد خراب کر سکتی ہے۔
مکمل پڑھیں ←
پروپولس کیا ہے؟ شہد کی مکھیوں کا گوند، جس سے وہ اپنے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں
پروپولس وہ گوند ہے جو شہد کی مکھیاں درختوں کی کلیوں کی رال اور موم سے بناتی ہیں، اور اس سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں۔ FAO کے مطابق یہ کیسا ہوتا ہے، مکھیاں اسے کیسے استعمال کرتی ہیں، اور اس سے الرجی کیوں ہو سکتی ہے۔
مکمل پڑھیں ←
ایک کلو شہد کی بوتل چھوٹی کیوں لگتی ہے؟ شہد کا وزن، حجم اور پانی کا حساب
شہد پانی سے تقریباً 40 فیصد بھاری ہوتا ہے، اس لیے ایک کلو شہد صرف تقریباً 700 ملی لیٹر جگہ لیتا ہے، اور ایک لیٹر کی بوتل میں تقریباً 1.4 کلو شہد آتا ہے۔ FAO کے اعداد، اور یہ کہ شہد ہمیشہ وزن سے کیوں خریدیں۔
مکمل پڑھیں ←