مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

پیاسے کتے کو پانی پلانے والا، اور ہماری مکھیاں: ہر جاندار پر رحم کا اجر، اور مکھیوں کے لیے پانی کا آسان انتظام

صحیح بخاری میں ایک شخص کا واقعہ ہے جس نے پیاسے کتے کو اپنے موزے میں پانی بھر کر پلایا، اور اللہ نے اسے بخش دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے۔ شہد کی مکھیوں کو بھی پانی چاہیے، خاص طور پر گرمی میں چھتا ٹھنڈا رکھنے کے لیے۔ جانیے مکھیاں پانی کیوں لاتی ہیں، اور گھر میں ان کے لیے محفوظ پانی کیسے رکھیں۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
مکھیوں کے لیے پانی رکھنے کے تین آسان کام: کم گہرا برتن، اس میں کنکر تاکہ مکھی ڈوبے نہیں، اور پانی بدلتے رہنا، ساتھ حدیث کہ ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے، اور شہد کی مکھیاں بھی ان جانداروں میں شامل ہیں جنہیں پانی کی ضرورت ہے۔ مکھیاں پانی صرف پینے کے لیے نہیں لاتیں: گرمی میں وہ اسی پانی سے چھتے کو ٹھنڈا رکھتی ہیں۔ گھر کی چھت یا صحن میں ایک کم گہرا برتن، کچھ کنکر اور صاف پانی ان کے لیے محفوظ پانی کا بہترین انتظام ہے۔

پیاسا کتا اور ایک شخص

ایک چھوٹا سا عمل، اور اللہ کی طرف سے مغفرت۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا واقعہ سنایا: اسے سخت پیاس لگی، وہ ایک کنویں میں اترا اور پانی پیا۔ باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا ہے اور گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ وہ شخص دوبارہ کنویں میں اترا، اپنے موزے میں پانی بھرا، اسے منہ سے پکڑ کر اوپر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس کا یہ عمل قبول کیا اور اسے بخش دیا۔

صحابہ نے پوچھا: کیا جانوروں کی خدمت میں بھی ہمارے لیے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:

«ہاں، ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے۔» (صحیح بخاری، 2363)

مکھیوں کو پانی کیوں چاہیے؟

چھتا ٹھنڈا رکھنے اور بچوں کی خوراک بنانے کے لیے۔ تحقیقات کے مطابق شہد کی مکھیوں کا چھتا پانی کئی کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے:

  • چھتے کو ٹھنڈا رکھنا: گرم دنوں میں مکھیاں پانی کے ننھے قطرے چھتے کی گرم جگہوں پر پھیلاتی ہیں اور پروں سے ہوا دیتی ہیں، تو پانی اڑ کر چھتا ٹھنڈا ہوتا ہے۔
  • بچوں کی خوراک: شہد کو پتلا کر کے لاروا (بچوں) کی خوراک بنانے میں۔
  • اپنی پیاس: خود مکھیوں کے جسم کو بھی پانی چاہیے۔

پانی نہ ملے تو کیا ہوتا ہے؟

چھتا خطرناک حد تک گرم ہو سکتا ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے سائنسدان تھامس سیلی اور ساتھیوں کی 2016 کی تحقیق (Journal of Experimental Biology) میں جب گرم چھتوں کو پانی نہیں ملا تو اندر کا درجۂ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ پانی ملتے ہی چھتوں نے درجۂ حرارت قابو کر لیا۔

اسی تحقیق کے مطابق پانی لانے والی مکھیاں اپنے وزن کا تقریباً 80 فیصد پانی اٹھا کر واپس آتی ہیں۔ مکھیاں سردیوں کی تیاری کیسے کرتی ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔

گھر میں مکھیوں کے لیے پانی کیسے رکھیں؟

امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا ایکسٹینشن کی ہدایات کی بنیاد پر:

  1. کم گہرا برتن: پرندوں کا پانی کا برتن، یا کوئی چوڑی کم گہری پلیٹ۔
  2. کنکر یا پتھر: برتن میں کنکر ڈالیں تاکہ ان کے سرے پانی سے باہر رہیں۔ مکھی ان پر بیٹھ کر پیتی ہے اور ڈوبتی نہیں۔
  3. پانی بدلتے رہیں: کھڑا پانی پرانا ہو تو اس میں مچھر کے لاروے پل سکتے ہیں۔ ڈینگی کے موسم میں یہ اور بھی ضروری ہے۔ تفصیل یہاں۔
  4. دھوپ والی، کھلی جگہ: تاکہ مکھیاں آسانی سے ڈھونڈ لیں۔ بہتر ہے کہ برتن گھر کے دروازے اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ سے ذرا دور ہو۔

اور اگر آپ پھول بھی لگا سکیں تو مکھیوں کو پانی کے ساتھ خوراک بھی ملے گی۔ مکھیاں کون سے رنگ کے پھول پسند کرتی ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔

چھوٹا عمل، بڑا اجر

اس واقعے میں ایک شخص نے صرف ایک موزہ بھر پانی پلایا تھا۔ گھر کی چھت پر پانی کا ایک برتن بھی اسی طرح کا چھوٹا سا عمل ہے، جس سے ہزاروں ننھی جانوں کو سکون ملتا ہے، اور یہی مکھیاں ہمارے کھیتوں اور باغوں کو پھل دیتی ہیں۔ مکھیاں ہمارے لیے کیوں ضروری ہیں، یہ یہاں۔

مکھیوں کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔

تمام تحریریں ←
ہوائی سفر میں شہد لے جانے کے چار مرحلے: ہینڈ بیگ میں 100 ملی لیٹر تک، بڑی بوتل چیک اِن میں، ڈھکن پر ٹیپ اور دو تھیلیاں، اور منزل والے ملک میں شہد ڈیکلیئر کرنا

ہوائی سفر میں شہد کیسے لے جائیں؟ ہینڈ بیگ کی 100 ملی لیٹر کی حد، چیک اِن سامان، اور وہ ملک جہاں شہد بتانا لازمی ہے

سردیوں میں عمرہ کا سفر ہو یا بیرونِ ملک رشتہ داروں کے پاس جانا، شہد کا تحفہ ساتھ لے جانا عام ہے۔ مگر ہوائی اڈے پر شہد «مائع» مانا جاتا ہے، اس لیے ہینڈ بیگ میں صرف 100 ملی لیٹر تک جا سکتا ہے۔ جانیے شہد کو کیسے پیک کریں، چیک اِن سامان میں کیا خیال رکھیں، اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ملکوں میں شہد کے بارے میں کیا قانون ہے۔

شہد اور IBS: ایک بار میں تقریباً 7 گرام یعنی ایک چھوٹا چمچ شہد کم FODMAP ہے، زیادہ مقدار سے حساس لوگوں میں اپھارہ ہو سکتا ہے

شہد کھا کر پیٹ پھولتا ہے؟ IBS، «فرکٹوز» اور شہد کی صحیح مقدار

زیادہ تر لوگوں کے لیے تھوڑا شہد بالکل ٹھیک ہے، مگر IBS والے بعض لوگوں کو زیادہ شہد سے اپھارہ، پیٹ درد یا دست ہو سکتے ہیں۔ وجہ شہد میں گلوکوز سے زیادہ فرکٹوز ہے۔ جانیے FODMAP کیا ہے، موناش یونیورسٹی شہد کی کتنی مقدار کو کم FODMAP مانتی ہے، اور کب ڈاکٹر کو دکھانا ضروری ہے۔

سرسوں کے پیلے پھول پر شہد کی مکھی، ساتھ سرسوں کے شہد کا تعارف: سردیوں کا ہلکا میٹھا شہد جو جم کر کریمی سفید ہو جاتا ہے

سرسوں کا شہد: آج بوئی جانے والی سرسوں، سردیوں کے پیلے کھیت، اور مکھن جیسا کریمی شہد

پنجاب میں ان دنوں سرسوں اور رایا کی بوائی ہو رہی ہے، اور دسمبر سے فروری تک یہی کھیت پیلے پھولوں سے بھر جائیں گے۔ جانیے سرسوں کا شہد کیسا ہوتا ہے، یہ چند دنوں میں جم کر کریمی سفید کیوں ہو جاتا ہے، کیا اس میں سرسوں کے تیل کا ذائقہ آتا ہے، اور اسے کیسے کھائیں۔