مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد چھتے سے بوتل تک کیسے پہنچتا ہے؟ مگس بان کے چھ مرحلے، FAO کی رہنمائی کے ساتھ

پکے ہوئے بند خانے چننے سے لے کر موم کی مہر ہٹانے، مشین میں گھمانے، چھاننے، ٹھہرانے اور بوتل بند کرنے تک: شہد نکالنے کے چھ مرحلے، اور ہر مرحلے میں کون سی غلطی شہد خراب کر سکتی ہے۔

5 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
گہرے سبز پس منظر پر عنوان «چھتے سے بوتل تک»، اور نیچے کریم رنگ کی پانچ پٹیوں پر شہد نکالنے کے مرحلے: صرف بند خانوں والے فریم لیں، موم کی مہر چاقو سے اتاریں، فریم مشین میں گھمائیں، شہد چھان کر چند دن ٹھہرائیں، اور ہوا بند برتن میں بھریں۔

بازار میں شہد کی بوتل دیکھ کر کم ہی لوگ سوچتے ہیں کہ یہ چھتے سے یہاں تک کیسے پہنچی۔ مگس بان (شہد کی مکھیاں پالنے والا) شہد کو چھتے سے بوتل تک چند سیدھے مرحلوں میں لاتا ہے، اور ہر مرحلے میں صفائی اور احتیاط ہی طے کرتی ہے کہ شہد کا معیار کیسا رہے گا۔ یہ مرحلے ہم نے اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (FAO) کی کتاب Value-added products from beekeeping سے لیے ہیں۔

پہلے یہ جان لیں کہ مکھیاں خود شہد کیسے بناتی ہیں: پھولوں کا رس، فالتو پانی کا اڑنا، اور آخر میں موم کی مہر۔ اس کی تفصیل یہاں پڑھیں۔

1. صرف پکا ہوا، بند شہد لیں

مکھیاں جب شہد پکا لیتی ہیں تو خانے کو موم کی پتلی تہہ سے بند کر دیتی ہیں۔ FAO کے مطابق ادھورے بند خانوں والے فریم اتارنے سے، خاص طور پر جب پھولوں کا موسم چل رہا ہو، شہد میں پانی ضرورت سے زیادہ رہ جاتا ہے۔ ایسا شہد جلد خمیر اٹھا سکتا ہے۔

2. مکھیوں کو نرمی سے الگ کریں

FAO کے مطابق مکھیوں کو شہد سے الگ کرنے کے کئی صاف طریقے ہیں:

  • فریم ایک ایک کر کے نکالیں اور مکھیوں کو جھاڑ کر یا برش سے ہٹائیں۔
  • ہوا پھینکنے والی مشین (blower) سے پورے ڈبے کی مکھیاں ہٹائیں۔
  • شہد والے ڈبے کے نیچے ایک تختہ رکھیں جس سے مکھیاں صرف باہر جا سکیں، واپس نہیں (bee escape)۔ اس سے تقریباً 24 گھنٹے میں ڈبہ خالی ہو جاتا ہے۔

دھواں کم سے کم: FAO لکھتا ہے کہ زیادہ دھواں شہد میں جلد ہی دھوئیں کا ذائقہ ڈال دیتا ہے، اور دھوئیں میں کوئی کیمیکل نہیں ہونا چاہیے۔ مکھیاں بھگانے والے بدبودار کیمیکل بھی شہد اور موم میں جذب ہو سکتے ہیں، اس لیے FAO ان سے منع کرتا ہے۔

3. موم کی مہر اتاریں (Uncapping)

FAO کے مطابق شہد نکالنے کا پہلا اصل مرحلہ موم کی وہ پتلی تہہ اتارنا ہے جس سے خانے بند ہیں۔ یہ ایک تیز، پتلے، لمبے چاقو سے، یا بھاپ یا بجلی سے گرم ہونے والے خاص چاقو سے کی جاتی ہے۔ بڑے کام میں یہی کام مشینیں کرتی ہیں۔

4. مشین میں گھمائیں (Extraction)

مہر اتارنے کے بعد فریم ایک ڈرم نما مشین (centrifugal extractor) میں رکھے جاتے ہیں جو انہیں تیزی سے گھماتی ہے، اور شہد خانوں سے نکل کر ڈرم کی دیواروں پر گرتا ہے۔ اس طرح موم کا چھتا ٹوٹے بغیر بچ جاتا ہے اور مکھیوں کو واپس دیا جا سکتا ہے۔ FAO کے مطابق اس طریقے سے نکلے شہد میں چھتے کی دوسری چیزوں کی ملاوٹ سب سے کم ہوتی ہے۔ گرم شہد جلدی نکلتا ہے، مگر چھتا نرم ہو کر ٹوٹ سکتا ہے، اس لیے FAO کہتا ہے کہ شہد نکالتے وقت درجۂ حرارت 30 ڈگری سے زیادہ نہ ہو۔

جن چھتوں میں فریم نہیں ہوتے، وہاں چھتا کاٹ کر نچوڑا جاتا ہے یا جالی پر رکھ کر شہد ٹپکنے دیا جاتا ہے۔

5. چھانیں اور ٹھہرائیں

نکلے ہوئے شہد میں موم کے ذرے، تنکے اور ہوا کے بلبلے ہوتے ہیں۔ FAO اس کے دو طریقے بتاتا ہے:

  • چھاننا: شہد کو جالی (strainer) سے گزارا جاتا ہے۔
  • ٹھہرانا: شہد کو ایک بڑے ڈھکے ہوئے برتن میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہوا کے بلبلے اور موم کے ذرے اوپر آ جاتے ہیں اور بھاری ذرے نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔ 25 سے 30 ڈگری پر یہ کام عموماً چند دنوں میں ہو جاتا ہے۔ پھر اوپر کی جھاگ ہٹا دی جاتی ہے، یا شہد نیچے کے نل سے نکالا جاتا ہے۔

6. صاف، ہوا بند برتن میں بھریں

FAO یاد دلاتا ہے کہ شہد تیزابی غذا ہے، اس لیے اسے تانبے، لوہے یا عام اسٹیل کے برتن میں نہ رکھیں، کیونکہ یہ دھاتیں شہد میں گھل کر اس کا رنگ اور ذائقہ بدل سکتی ہیں۔ اسٹین لیس اسٹیل، شیشہ اور فوڈ گریڈ پلاسٹک ٹھیک ہیں۔ برتن کا ڈھکن ہوا بند ہو، اور شیشے کے جار پر پیچ والا ڈھکن سب سے محفوظ ہے۔ شہد بو بھی بہت جلد جذب کرتا ہے، اس لیے برتن میں پہلے سے کوئی بو نہ ہو۔

شہد کو گھر میں برسوں ٹھیک رکھنے کا طریقہ یہاں دیکھیں، اور شہد ہمیشہ وزن سے کیوں خریدیں، یہ یہاں۔

گرمی کا اثر

FAO کے مطابق شہد کو گرم کرنے سے کام آسان ہو جاتا ہے، مگر ہر طرح کی گرمی شہد کے نازک خوشبو دار اجزاء کو کم کرتی ہے، اور یہ نقصان جتنا زیادہ درجۂ حرارت اور جتنی دیر، اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ «کچا شہد» کسے کہتے ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔

چھتے والا شہد

کچھ لوگ شہد کو نکالے بغیر چھتے سمیت ہی کھانا پسند کرتے ہیں۔ اس میں نہ مشین لگتی ہے نہ چھاننا۔ اس کے بارے میں یہاں پڑھیں۔ اور چھتے کی دراڑوں میں جمی بھوری گوند، پروپولس، کے بارے میں یہاں۔

شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413

حوالہ جات

تمام تحریریں ←
گہرے بھورے پس منظر پر عنوان «پروپولس: مکھیوں کا گوند»، اور ایک کریم رنگ کی شیٹ پر چار نشان زدہ باتیں کہ مکھیاں اس گوند سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں، داخلے کا راستہ تنگ کرتی ہیں، بڑے مردہ کیڑوں کو ڈھانپ دیتی ہیں اور خانوں کو مضبوط کرتی ہیں۔

پروپولس کیا ہے؟ شہد کی مکھیوں کا گوند، جس سے وہ اپنے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں

پروپولس وہ گوند ہے جو شہد کی مکھیاں درختوں کی کلیوں کی رال اور موم سے بناتی ہیں، اور اس سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں۔ FAO کے مطابق یہ کیسا ہوتا ہے، مکھیاں اسے کیسے استعمال کرتی ہیں، اور اس سے الرجی کیوں ہو سکتی ہے۔

ہلکے مٹیالے پس منظر پر عنوان «ایک کلو شہد کی بوتل چھوٹی کیوں؟»، گہرے بھورے دائرے میں «700 ملی لیٹر»، اور نیچے لکھا ہے کہ شہد پانی سے تقریباً 40 فیصد بھاری ہے، ایک لیٹر کی بوتل میں تقریباً 1.4 کلو شہد آتا ہے، اور شہد ہمیشہ وزن سے خریدیں۔

ایک کلو شہد کی بوتل چھوٹی کیوں لگتی ہے؟ شہد کا وزن، حجم اور پانی کا حساب

شہد پانی سے تقریباً 40 فیصد بھاری ہوتا ہے، اس لیے ایک کلو شہد صرف تقریباً 700 ملی لیٹر جگہ لیتا ہے، اور ایک لیٹر کی بوتل میں تقریباً 1.4 کلو شہد آتا ہے۔ FAO کے اعداد، اور یہ کہ شہد ہمیشہ وزن سے کیوں خریدیں۔

ہلکے سبز پس منظر پر عنوان «گھر پر مکھیوں کا جھنڈ آ جائے تو؟» اور دو کالم: سفید کالم «یہ کریں» میں فاصلہ رکھنا، جھنڈ کا خود چلے جانا اور مکھی پال کو بلانا، گہرے سبز کالم «یہ نہ کریں» میں پتھر یا آگ، کیڑے مار سپرے اور مکھیوں سمیت سوراخ بند کرنے سے منع، نیچے 1122 پر فون کرنے کی ہدایت۔

گھر پر شہد کی مکھیوں کا جھنڈ یا چھتا لگ جائے تو کیا کریں؟ چھ آسان باتیں

گھر کی دیوار، درخت یا چھجے پر شہد کی مکھیوں کا جھنڈ عموماً پرسکون ہوتا ہے اور اکثر خود ہی آگے چلا جاتا ہے۔ فاصلہ رکھیں، پتھر، آگ یا سپرے نہ کریں، اور ہٹانا ہو تو تجربہ کار مکھی پال کو بلائیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی رہنمائی، آسان زبان میں۔