مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد کی 9000 سالہ کہانی: غاروں کی تصویروں سے نبی کریم ﷺ کے دسترخوان تک

انسان اور شہد کا رشتہ کتنا پرانا ہے؟ قدیم برتنوں میں موم کے نشان، اسپین کے غار میں شہد اتارتے انسان کی تصویر، جارجیا کی قبر میں شہد کے برتن، اور مصر کے مندر میں مکھی پالنے کا منظر۔ جانیے شہد کی ہزاروں سال پرانی کہانی، ایک نظر میں۔

3 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
شہد کی تاریخ کی ٹائم لائن: 9000 سال پہلے برتنوں میں موم، 8000 سال پہلے غار کی تصویر، 5500 سال پرانا شہد، اور 4500 سال پہلے مصر میں مکھی پالنا

آج ہم شہد جار سے چمچ بھر کر کھاتے ہیں، مگر انسان اور شہد کا رشتہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ اتنا پرانا کہ اس کے نشان پتھروں، غاروں اور مٹی کے برتنوں میں آج بھی موجود ہیں۔ آئیے اس کہانی کو شروع سے دیکھتے ہیں۔

9000 سال پہلے: برتنوں میں موم کے نشان

2015 میں سائنسی جریدے Nature میں ایک بڑی تحقیق چھپی۔ سائنسدانوں نے یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے 150 سے زیادہ قدیم مقامات سے ملے 6000 سے زیادہ مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے جانچے۔ کئی برتنوں میں موم کے کیمیائی نشان ملے۔ ان میں سب سے پرانے نشان ترکی کے ایک مقام سے ملے، جو تقریباً 8500 سال پرانے ہیں۔ تحقیق کے مطابق انسان کم از کم 9000 سال سے مکھیوں کی چیزیں، موم اور غالباً شہد، استعمال کر رہا ہے، یعنی کھیتی باڑی کے آغاز ہی سے۔

8000 سال پہلے: غار کی دیوار پر شہد کا شکاری

اسپین کے شہر ویلنسیا کے قریب «مکڑی کے غار» (Cuevas de la Araña) میں ایک مشہور تصویر ہے۔ اس میں ایک انسان رسیوں کی سیڑھی پر چڑھ کر، ہاتھ میں تھیلا لیے، مکھیوں کے جھرمٹ کے بیچ چٹان پر لگے چھتے سے شہد اتار رہا ہے۔ اس تصویر کی عمر کا اندازہ تقریباً 8000 سال لگایا جاتا ہے، اگرچہ اس کی تاریخ پر ماہرین میں بحث ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی شہد کے شکاری یہی کام کرتے ہیں۔ ان کی کہانی یہاں پڑھیں۔

5500 سال پہلے: قبر میں شہد کے برتن

2003 میں جارجیا کے علاقے بورجومی میں ایک پائپ لائن بناتے ہوئے ایک قدیم قبر ملی۔ اس میں رکھے مٹی کے برتنوں کی اندرونی سطح پر شہد کے نشان ملے، جن کی عمر تقریباً 5500 سال بتائی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ شہد کئی طرح کے پھولوں کا تھا۔ اسے اب تک ملنے والا سب سے پرانا شہد کہا جاتا ہے۔

4500 سال پہلے: مصر میں باقاعدہ مکھی پالنا

مصر کے فرعون نیوسرے کے سورج مندر (ابو غراب) میں ایک پتھر پر کھدی تصویر ملی، جو تقریباً 2450 قبل مسیح کی ہے۔ اس میں ایک شخص چھتوں کی قطار کے پاس کام کر رہا ہے، کچھ لوگ شہد برتنوں میں بھر رہے ہیں، اور آخر میں برتن سیل کیے جا رہے ہیں۔ یہ مکھی پالنے کی اب تک کی سب سے پرانی معلوم تصویر ہے، اور بتاتی ہے کہ اس وقت تک یہ ایک باقاعدہ ہنر بن چکا تھا۔

اسلام میں شہد کا مقام

پھر وہ دور آیا جب قرآنِ مجید میں ایک پوری سورت کا نام ہی «النحل» یعنی شہد کی مکھی رکھا گیا، اور شہد کو «لوگوں کے لیے شفا» کہا گیا۔ اس پر ہماری تحریر یہاں پڑھیں۔

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:

«رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔» (صحیح بخاری، 5431)

شہد سے متعلق احادیث پر ہماری تحریر یہاں ہے۔

ہزاروں سال بعد بھی وہی مکھی

سوچیں: 9000 سال پہلے کا انسان بھی چھتے سے شہد لیتا تھا، اور آج ہم بھی۔ مکھی کا شہد بنانے کا طریقہ، اس کا ناچ، اور پھولوں سے اس کا رشتہ آج بھی ویسا ہی ہے۔ بدلا ہے تو صرف ہمارا برتن: پتھر کے دور کی مٹی سے آج کے شیشے کے جار تک۔ اپنے شہد کو صحیح طرح رکھنے کا طریقہ یہاں پڑھیں۔

شہد یا مکھیوں کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔

تمام تحریریں ←
مقامی شہد اور پولن الرجی کے بارے میں تین غلط فہمیاں اور سچ، اور سانس پھولنے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کے پاس جانے کی ہدایت

کیا مقامی شہد پولن الرجی ختم کرتا ہے؟ اسلام آباد کی الرجی اور سائنس کا ایماندار جواب

«روز ایک چمچ مقامی شہد کھاؤ، پولن الرجی ختم ہو جائے گی»: یہ مشورہ ہر بہار میں سننے کو ملتا ہے۔ تحقیق کیا کہتی ہے؟ جانیے اسلام آباد کی جنگلی شہتوت والی الرجی کیا ہے، الرجی والا پولن شہد میں کیوں کم ہوتا ہے، تحقیقات کے نتائج کیا ہیں، اور الرجی میں کب ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے۔

پاکستان کا شہد کیلنڈر چار موسموں میں: سردیوں میں سرسوں اور سفیدہ، بہار میں پھلائی اور مالٹا، برسات میں کیکر، اور خزاں میں بیری

پاکستان کا شہد کیلنڈر: کون سا پھول کب کھلتا ہے اور کون سا شہد کب اترتا ہے

پاکستان میں سال کے ہر موسم میں کہیں نہ کہیں کوئی پھول کھلا ہوتا ہے، اور مکھیاں اسی کے پیچھے چلتی ہیں۔ جانیے سردیوں میں سرسوں اور سفیدہ، بہار میں پھلائی، شیشم اور مالٹا، برسات میں کیکر، اور خزاں میں بیری: پورے سال کا شہد کیلنڈر ایک نظر میں۔

جنگلی چھتے سے شہد اتارنے کے غلط اور صحیح طریقے: آگ کی بجائے ہلکا دھواں، پورے چھتے کی بجائے صرف شہد والا حصہ، اور اونچے درختوں کی حفاظت

شہد کے شکاری: جنگلی چھتے سے شہد کیسے اتارا جاتا ہے، اور مکھیاں کیسے بچائی جائیں

اونچے درختوں اور چٹانوں سے جنگلی چھتا اتارنا صدیوں پرانا ہنر ہے۔ جانیے شہد کے شکاری چھتا کیسے اتارتے ہیں، کون سے طریقے مکھیوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور کون سے انہیں بچاتے ہیں، اور اسلام مکھی کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔