مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد کے چھتے کے خانے چھ کونوں والے کیوں ہوتے ہیں؟ موم کی بچت، ریاضی کا ثبوت اور ایک حیران کن تحقیق

چھ کونوں والے خانے پوری جگہ بغیر خلا کے بھر دیتے ہیں اور ان میں دیوار، یعنی موم، سب سے کم لگتا ہے۔ ایک کلو موم کے لیے مکھیاں تقریباً 7 سے 9 کلو شہد خرچ کرتی ہیں، اس لیے یہ بچت بہت قیمتی ہے۔ ریاضی کا 1999 کا ثبوت اور 2013 کی حیران کن تحقیق۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
سنہرے پس منظر پر عنوان «چھتے کے خانے چھ کونوں والے کیوں؟» اور تین شکلیں: گول خانے جن کے بیچ خالی جگہ ہے، چوکور خانے جن میں دیواریں زیادہ ہیں، اور چھ کونوں والے خانے جو جگہ بھی بھرتے ہیں اور موم بھی کم لیتے ہیں۔ نیچے لکھا ہے کہ ایک کلو موم کے لیے مکھیاں تقریباً 7 سے 9 کلو شہد کھاتی ہیں۔

خالص چھتا ہاتھ میں لیں تو سب سے پہلے اس کے خانے نظر آتے ہیں: سب ایک جیسے، اور سب کے چھ کونے۔ آخر کیوں؟ سیدھا جواب یہ ہے: چھ کونوں والے خانے پوری جگہ کو بغیر کسی خلا کے بھر دیتے ہیں، اور ایک جتنی جگہ کے خانے بنانے میں ان کی دیواروں کی کل لمبائی سب سے کم ہوتی ہے۔ یعنی مکھیوں کو سب سے کم موم میں سب سے زیادہ ذخیرہ مل جاتا ہے۔

موم اتنا قیمتی کیوں ہے؟

مکھیاں موم اپنے جسم سے بناتی ہیں، اور یہ بہت مہنگا سودا ہے۔ مزدور مکھیوں کے پیٹ کے نیچے آٹھ چھوٹے غدود ہوتے ہیں جن سے موم کی پتلی پرتیں نکلتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک کلو موم بنانے کے لیے تقریباً 6.66 سے 8.80 کلو شہد خرچ ہوتا ہے، یعنی موٹے طور پر 7 سے 9 کلو۔

اسی لیے مکھیوں کے لیے ہر گرام موم کی بچت کا مطلب ہے زیادہ شہد ذخیرے کے لیے بچ جانا۔ ایک مزدور مکھی کی پوری زندگی یہاں پڑھیں۔

تین شکلیں، ایک مقابلہ

فرض کریں ہمیں ایک سطح کو ایک جیسے، ایک جتنے بڑے خانوں میں بانٹنا ہے:

  • گول خانے: دائرے ایک دوسرے سے جڑ کر بھی بیچ میں خالی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ جگہ ضائع ہوتی ہے۔
  • تکون اور چوکور: یہ جگہ تو پوری بھر دیتے ہیں، مگر ایک جتنی جگہ کے لیے ان کی دیواریں لمبی ہوتی ہیں، یعنی موم زیادہ لگتا ہے۔
  • چھ کونوں والے (مسدس): یہ بھی جگہ پوری بھرتے ہیں، اور ان کی دیواریں سب سے کم ہوتی ہیں۔ ساتھ ہی ہر دیوار دو خانوں کے کام آتی ہے۔

ریاضی کا ثبوت: 1999

یہ بات صدیوں سے کہی جا رہی تھی، اور قدیم یونانی ریاضی دان پاپس نے بھی اس پر بات کی تھی۔ مگر اس کا مکمل ریاضیاتی ثبوت بہت بعد میں آیا: 1999 میں امریکی ریاضی دان تھامس ہیلز نے «ہنی کومب کنجیکچر» ثابت کیا، کہ کسی سطح کو ایک جتنے رقبے والے خانوں میں بانٹنے کا ہر طریقہ کم از کم اتنی دیوار مانگتا ہے جتنی چھ کونوں والا جال۔ یعنی مکھیاں وہی شکل بناتی ہیں جو ریاضی کے لحاظ سے سب سے کفایت والی ہے۔

2013 کی حیران کن تحقیق: مکھیاں خانے گول بناتی ہیں

برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی کے محققین نے 2013 میں بتایا کہ چھتے کے خانے بنتے وقت گول ہوتے ہیں، اور جلد ہی گول کونوں والے مسدس بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مزدور مکھیاں اپنے جسم کی گرمی سے موم کو نرم کرتی ہیں، اور جہاں تین خانے ملتے ہیں وہاں یہ نرم موم بہہ کر سیدھی دیواروں میں بدل جاتا ہے۔

یعنی چھ کونوں والی شکل میں مکھیوں کی محنت کے ساتھ ساتھ موم کی اپنی خاصیت کا بھی ہاتھ ہے۔ یہ تحقیق جرنل آف دی رائل سوسائٹی انٹرفیس میں شائع ہوئی۔

چھتے میں کیا کیا رکھا جاتا ہے؟

انہی خانوں میں مکھیاں شہد جمع کرتی ہیں، زرِ گل (پولن) رکھتی ہیں، اور ملکہ مکھی انڈے دیتی ہے جن سے بچے پلتے ہیں۔ پکا شہد موم کی تہہ سے بند کر دیا جاتا ہے۔ شہد کیسے بنتا ہے، یہ یہاں پڑھیں۔

اگر آپ یہ خانے اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور موم سمیت شہد کھانا چاہیں تو خالص چھتا اسی شکل میں آتا ہے۔

مکھیوں کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413

حوالہ جات

  • Thomas C. Hales, The Honeycomb Conjecture (1999; arXiv:math/9906042; mentions Pappus): https://arxiv.org/abs/math/9906042
  • Karihaloo B.L., Zhang K., Wang J. (2013), Honeybee combs: how the circular cells transform into rounded hexagons, Journal of the Royal Society Interface 10(86):20130299, PMID 23864500 (cells circular at "birth", molten wax flows at triple junctions, heat from worker bees): https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/23864500/
  • Wikipedia, Beeswax (eight wax glands on abdominal segments 4–7; 6.66–8.80 kg of honey yields 1 kg of wax, citing published research): https://en.wikipedia.org/wiki/Beeswax
تمام تحریریں ←
گہرے سیاہی مائل پس منظر پر چاند اور عنوان «کیا مکھیاں سوتی ہیں؟ جی ہاں!»، چار خانوں میں سوتی مکھی کی نشانیاں (ساکن انٹینا، بے حرکت لٹکنا، ٹھنڈا جسم، جگانا مشکل)، اور سنہری پٹی پر لکھا ہے کہ نیند پوری نہ ہو تو مکھی کا رقص کم درست ہو جاتا ہے۔

کیا شہد کی مکھیاں سوتی ہیں؟ نیند کی نشانیاں، سونے کی جگہ، اور نیند پوری نہ ہو تو کیا ہوتا ہے

جی ہاں، شہد کی مکھیاں سوتی ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق سوتی ہوئی مکھی کے انٹینا رک جاتے ہیں، جسم ذرا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، اور جس مکھی کی نیند پوری نہ ہو اس کا رقص کم درست ہو جاتا ہے۔ کون سی مکھی کہاں اور کب سوتی ہے، یہاں پڑھیں۔

گہرے بھورے پس منظر پر عنوان «پروپولس: مکھیوں کا گوند»، اور ایک کریم رنگ کی شیٹ پر چار نشان زدہ باتیں کہ مکھیاں اس گوند سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں، داخلے کا راستہ تنگ کرتی ہیں، بڑے مردہ کیڑوں کو ڈھانپ دیتی ہیں اور خانوں کو مضبوط کرتی ہیں۔

پروپولس کیا ہے؟ شہد کی مکھیوں کا گوند، جس سے وہ اپنے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں

پروپولس وہ گوند ہے جو شہد کی مکھیاں درختوں کی کلیوں کی رال اور موم سے بناتی ہیں، اور اس سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں۔ FAO کے مطابق یہ کیسا ہوتا ہے، مکھیاں اسے کیسے استعمال کرتی ہیں، اور اس سے الرجی کیوں ہو سکتی ہے۔