مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

کیا مقامی شہد پولن الرجی ختم کرتا ہے؟ اسلام آباد کی الرجی اور سائنس کا ایماندار جواب

«روز ایک چمچ مقامی شہد کھاؤ، پولن الرجی ختم ہو جائے گی»: یہ مشورہ ہر بہار میں سننے کو ملتا ہے۔ تحقیق کیا کہتی ہے؟ جانیے اسلام آباد کی جنگلی شہتوت والی الرجی کیا ہے، الرجی والا پولن شہد میں کیوں کم ہوتا ہے، تحقیقات کے نتائج کیا ہیں، اور الرجی میں کب ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ہے۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
مقامی شہد اور پولن الرجی کے بارے میں تین غلط فہمیاں اور سچ، اور سانس پھولنے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کے پاس جانے کی ہدایت

ہر سال مارچ آتے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہزاروں لوگوں کی آنکھیں سرخ، ناک بند اور چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ایک مشورہ گردش کرنے لگتا ہے: «روز ایک چمچ مقامی شہد کھاؤ، الرجی ختم ہو جائے گی۔» آج ایمانداری سے دیکھتے ہیں کہ اس میں کتنا سچ ہے۔

اسلام آباد کی الرجی: جنگلی شہتوت

اسلام آباد کی پولن الرجی کی سب سے بڑی وجہ جنگلی شہتوت (پیپر ملبری) کا درخت ہے۔ تحقیقات کے مطابق بہار میں اسلام آباد کی ہوا میں موجود پولن کا تقریباً تین چوتھائی اسی درخت کا ہوتا ہے، اور اس کا عروج عموماً مارچ کے وسط میں آتا ہے۔ ایک اور تحقیق میں اس پولن کے بڑھنے کے ساتھ دمے کے دوروں میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔

خیال کہاں سے آیا؟

سوچ یہ ہے کہ شہد میں پھولوں کا تھوڑا سا پولن ہوتا ہے۔ اگر روز تھوڑا سا پولن کھایا جائے تو جسم آہستہ آہستہ اس کا عادی ہو جائے گا، جیسے الرجی کے علاج کے انجکشن میں ہوتا ہے۔ بات دلچسپ ہے، مگر اس میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔

رکاوٹ 1: غلط پولن

امریکی ادارے ACAAI (امریکن کالج آف الرجی، دمہ اور امیونولوجی) کے مطابق الرجی کرنے والا پولن زیادہ تر درختوں، گھاس اور جنگلی بوٹیوں کا ہوتا ہے، جو ہوا سے اڑتا ہے۔ شہد کی مکھیاں زیادہ تر رنگین، خوشبودار پھولوں سے رس لیتی ہیں، اور ان پھولوں کا پولن الرجی کم کرتا ہے۔ اس لیے شہد میں الرجی والا پولن بہت تھوڑا ہوتا ہے، اور اس کی مقدار بھی معلوم نہیں ہوتی۔ الرجی کے انجکشن میں مقدار ناپ کر، آہستہ آہستہ بڑھائی جاتی ہے۔

رکاوٹ 2: تحقیقات کیا کہتی ہیں؟

  • 2002 کی تحقیق (امریکہ): 36 مریضوں کو روز ایک کھانے کا چمچ مقامی شہد، عام شہد، یا شہد کے ذائقے والا نقلی شربت دیا گیا۔ نتیجہ: تینوں گروپوں کی علامات میں کوئی خاص فرق نہیں نکلا۔
  • 2013 کی تحقیق (ملائیشیا): 40 مریضوں میں الرجی کی دوا کے بعد بہت زیادہ مقدار میں شہد (جسم کے ہر کلو وزن کے حساب سے ایک گرام روزانہ) دیا گیا، اور شہد والے گروپ میں علامات میں بہتری دیکھی گئی۔

یعنی نتائج ملے جلے ہیں، تحقیقات چھوٹی ہیں، اور ماہرین کے مطابق ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ACAAI کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں کہ مقامی شہد موسمی الرجی ٹھیک کرتا ہے۔ اور دوسری تحقیق والی مقدار (مثلاً 70 کلو وزن پر 70 گرام شہد روزانہ) میں شکر بہت زیادہ ہے۔

تو شہد کا کیا کردار ہے؟

شہد ایک مزیدار، قیمتی غذا ہے، اور کھانسی میں کچھ آرام دے سکتا ہے، اس پر ہماری تحریر یہاں پڑھیں۔ مگر پولن الرجی کا علاج نہیں۔ شہد کے فوائد پر سائنس کیا کہتی ہے، یہ یہاں پڑھیں۔

الرجی میں کیا کریں؟

برطانیہ کے ادارے NHS کے مطابق:

  • فارماسسٹ سے مشورہ کریں: وہ الرجی کی گولیاں، اسپرے یا قطرے بتا سکتے ہیں۔ کچھ دوائیں نیند لاتی ہیں، اس لیے پوچھ لیں۔
  • ڈاکٹر کے پاس جائیں اگر علامات بڑھ رہی ہوں، یا فارمیسی کی دوا سے آرام نہ آئے۔

اس کے علاوہ:

  • فوراً ڈاکٹر یا ایمرجنسی اگر سانس پھولے، سینے سے سیٹی کی آواز آئے، یا دمے کی تکلیف بڑھے۔
  • پولن کے موسم میں ماسک، کھڑکیاں بند رکھنا، اور باہر سے آ کر منہ ہاتھ دھونا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔

تکلیف پر صبر کا اجر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «مسلمان کو جو بھی تھکاوٹ، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے کچھ گناہ معاف کر دیتا ہے۔» (صحیح بخاری، 5641)

ہر بہار الرجی سے پریشان ہونے والوں کے لیے یہ حدیث تسلی ہے۔ صبر کے ساتھ علاج بھی کریں، اور ماہر سے مشورہ لیں۔

یاد رکھیں

  • 12 مہینے سے کم عمر بچے کو شہد بالکل نہ دیں۔ تفصیل یہاں۔
  • شوگر کے مریض شہد ڈاکٹر سے پوچھ کر لیں۔
  • جنہیں شہد یا مکھی کے ڈنک سے الرجی ہو، وہ شہد سے پرہیز کریں۔

شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔

یہ تحریر عام معلومات کے لیے ہے، کسی ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔ الرجی یا دمے کی کسی بھی تکلیف میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں، اور کوئی دوا اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔

تمام تحریریں ←
شہد کی تاریخ کی ٹائم لائن: 9000 سال پہلے برتنوں میں موم، 8000 سال پہلے غار کی تصویر، 5500 سال پرانا شہد، اور 4500 سال پہلے مصر میں مکھی پالنا

شہد کی 9000 سالہ کہانی: غاروں کی تصویروں سے نبی کریم ﷺ کے دسترخوان تک

انسان اور شہد کا رشتہ کتنا پرانا ہے؟ قدیم برتنوں میں موم کے نشان، اسپین کے غار میں شہد اتارتے انسان کی تصویر، جارجیا کی قبر میں شہد کے برتن، اور مصر کے مندر میں مکھی پالنے کا منظر۔ جانیے شہد کی ہزاروں سال پرانی کہانی، ایک نظر میں۔

پاکستان کا شہد کیلنڈر چار موسموں میں: سردیوں میں سرسوں اور سفیدہ، بہار میں پھلائی اور مالٹا، برسات میں کیکر، اور خزاں میں بیری

پاکستان کا شہد کیلنڈر: کون سا پھول کب کھلتا ہے اور کون سا شہد کب اترتا ہے

پاکستان میں سال کے ہر موسم میں کہیں نہ کہیں کوئی پھول کھلا ہوتا ہے، اور مکھیاں اسی کے پیچھے چلتی ہیں۔ جانیے سردیوں میں سرسوں اور سفیدہ، بہار میں پھلائی، شیشم اور مالٹا، برسات میں کیکر، اور خزاں میں بیری: پورے سال کا شہد کیلنڈر ایک نظر میں۔

جنگلی چھتے سے شہد اتارنے کے غلط اور صحیح طریقے: آگ کی بجائے ہلکا دھواں، پورے چھتے کی بجائے صرف شہد والا حصہ، اور اونچے درختوں کی حفاظت

شہد کے شکاری: جنگلی چھتے سے شہد کیسے اتارا جاتا ہے، اور مکھیاں کیسے بچائی جائیں

اونچے درختوں اور چٹانوں سے جنگلی چھتا اتارنا صدیوں پرانا ہنر ہے۔ جانیے شہد کے شکاری چھتا کیسے اتارتے ہیں، کون سے طریقے مکھیوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور کون سے انہیں بچاتے ہیں، اور اسلام مکھی کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔