مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

شہد میں ملاوٹ کیسے ہوتی ہے؟ پانچ طریقے جو ہر خریدار کو معلوم ہونے چاہئیں

جعلی شہد صرف چینی کا شیرا نہیں ہوتا۔ شیرے کی ملاوٹ، مکھیوں کو چینی کھلانا، سستے شہد کا مکس، کچا شہد اتار کر مشینوں میں گاڑھا کرنا اور غلط نام سے بیچنا: جانیے ملاوٹ کے یہ پانچ طریقے کیسے کام کرتے ہیں، گھریلو ٹیسٹ انہیں کیوں نہیں پکڑ پاتے، اور خریدتے وقت خود کو کیسے بچائیں۔

7 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
شہد میں ملاوٹ کیسے ہوتی ہے: یورپ میں جانچے گئے درآمدی شہد کے 46 فیصد نمونوں پر ملاوٹ کا شبہ، اور ملاوٹ کے عام طریقے: شیرا، مکھیوں کو چینی، سستے شہد کا مکس اور غلط لیبل

ہمارے گاہک اکثر پوچھتے ہیں: «بازار میں اتنا سستا شہد کیسے بک رہا ہے؟ کیا وہ سارا جعلی ہے؟» ہر سستا شہد جعلی نہیں ہوتا، مگر یہ سوال بہت جائز ہے۔ شہد دنیا میں سب سے زیادہ ملاوٹ کی جانے والی غذاؤں میں شمار ہوتا ہے، اور ملاوٹ کرنے والے ہر سال نئے طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں۔

ہم نے پہلے خالص شہد کی پہچان پر لکھا تھا کہ گھریلو ٹیسٹ کتنے سچے ہیں۔ آج بات اس کی ہے کہ ملاوٹ اصل میں ہوتی کیسے ہے۔ جب آپ طریقہ سمجھ لیں گے تو یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ انگوٹھے یا پانی کا ٹیسٹ اسے کیوں نہیں پکڑ پاتا۔

ملاوٹ کتنی عام ہے؟

یورپی یونین نے 2021 اور 2022 میں اپنی سرحدوں پر باہر سے آنے والے شہد کے 320 نمونے جانچے۔ ان میں سے 46 فیصد پر شبہ تھا کہ ان میں چاول، گندم یا چقندر سے بنا شیرا ملایا گیا ہے۔ یہ یورپ کا حال ہے جہاں جدید لیبارٹریاں موجود ہیں۔

وجہ صاف ہے: شیرا شہد سے کئی گنا سستا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق چاول کا شیرا باہر سے آنے والے شہد کی اوسط قیمت کے تقریباً چوتھائی یا اس سے بھی کم میں مل جاتا ہے۔ جہاں اتنا منافع ہو، وہاں لالچ بھی ہوتا ہے۔

طریقہ 1: شیرے کی سیدھی ملاوٹ

سب سے پرانا اور عام طریقہ۔ اتارے گئے شہد میں کوئی سستا شیرا ملا دیا جاتا ہے، جیسے:

  • گنے یا چینی کا شیرا
  • مکئی کا شیرا (کارن سیرپ)
  • چاول کا شیرا، جو آج کل سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے
  • گلوکوز سیرپ اور «انورٹ» شیرا

پرانے زمانے میں یہ ملاوٹ پتلی ہوتی تھی اور آسانی سے پہچانی جاتی تھی۔ آج کے شیرے اتنے گاڑھے اور شہد جیسے بنائے جاتے ہیں کہ انگوٹھے، پانی اور ماچس کے سارے ٹیسٹ آسانی سے پاس کر لیتے ہیں۔ بعض شیرے تو ایسے پودوں سے بنتے ہیں کہ ایک عام لیبارٹری ٹیسٹ (C4 شوگر ٹیسٹ) بھی انہیں نہیں پکڑتا، اور ان کے لیے مزید جدید جانچ چاہیے۔

طریقہ 2: مکھیوں کو چینی کھلانا

یہ طریقہ زیادہ چالاک ہے۔ فارمی مکھیوں کے ڈبوں کے پاس، عین اس موسم میں جب مکھیوں کو پھولوں سے رس لانا چاہیے، چینی کا شربت رکھ دیا جاتا ہے۔ مکھیاں آسان راستہ اختیار کرتی ہیں: شربت اٹھاتی ہیں اور اسے چھتے میں شہد کی طرح جمع کر دیتی ہیں۔

نتیجہ ایسا «شہد» ہوتا ہے جو مکھی نے بنایا ضرور ہے، مگر پھولوں سے نہیں، چینی سے۔ اس میں پھولوں کی خوشبو اور قدرتی اجزاء بہت کم ہوتے ہیں۔

یاد رہے، سردیوں میں جب پھول نہ ہوں تو مکھیوں کو زندہ رکھنے کے لیے تھوڑی خوراک دینا شہد پالنے والوں کا عام اور جائز کام ہے۔ مسئلہ تب ہے جب شہد کے موسم میں شربت کھلا کر اسے شہد بنا کر بیچا جائے۔

یہ طریقہ صرف ڈبوں میں پالی جانے والی مکھیوں کے ساتھ ممکن ہے۔ ڈُمنا (بڑی مکھی) اتنی جارحانہ ہے کہ اسے پالا نہیں جا سکتا، اور چھوٹی مکھی بھی جنگل میں اپنا کھلا چھتا خود بناتی ہے۔ مکھیوں کے بارے میں مزید یہاں پڑھیں۔

طریقہ 3: سستے شہد کا مکس

کبھی ملاوٹ شیرے کی نہیں، سستے شہد کی ہوتی ہے۔ مہنگے شہد، جیسے بیری، میں کوئی سستا شہد ملا کر پورا مکس مہنگے نام سے بیچ دیا جاتا ہے۔ یہ «شہد» تو ہے، مگر وہ نہیں جس کی آپ قیمت دے رہے ہیں۔

طریقہ 4: کچا شہد اتار کر مشین میں گاڑھا کرنا

مکھیاں شہد کو چھتے میں پکاتی ہیں: پروں سے ہوا دے کر اس کا پانی کم کرتی ہیں، اور جب شہد تیار ہو جائے تو خانے کو موم سے بند کر دیتی ہیں۔ اس میں وقت لگتا ہے۔

جلد بازی میں کچھ لوگ کچا، پتلا شہد وقت سے پہلے اتار لیتے ہیں اور پھر مشینوں میں اس کا پانی سکھا کر گاڑھا کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہ شہد جیسا لگتا ہے، مگر مکھیوں کا پورا کام اس میں نہیں ہوا ہوتا۔

طریقہ 5: غلط نام، غلط علاقہ

یہ سب سے عام دھوکا ہے، خاص طور پر ان دنوں، کیونکہ خزاں بیری کا موسم ہے۔ عام کثیر پھولی شہد پر «بیری» یا «سدر» لکھ کر دگنی قیمت پر بیچنا آسان ہے۔

عالمی معیار (کوڈیکس) کے مطابق کسی شہد کو کسی پھول کے نام سے تبھی بیچا جا سکتا ہے جب وہ مکمل یا زیادہ تر اسی پھول سے ہو، اور اس کا رنگ، ذائقہ اور بناوٹ اسی پھول سے ملتا ہو۔ کسی شہد کے پھول کی پہچان کے لیے پولن (زرِ گل) کی الگ جانچ ہوتی ہے۔ بیری کے اصل شہد کی پہچان پر ہماری تحریر یہاں پڑھیں۔

ایک نظر میں

طریقہکیا ہوتا ہےگھریلو ٹیسٹ سے پکڑا جاتا ہے؟
شیرے کی ملاوٹشہد میں سستا شیراعموماً نہیں
مکھیوں کو چینیمکھی شربت سے «شہد» بناتی ہےنہیں
سستے شہد کا مکسمہنگے نام پر سستا شہدنہیں
کچا شہد، مشینی گاڑھاوقت سے پہلے اتارا گیا شہدنہیں
غلط نامعام شہد پر مہنگا لیبلنہیں

کیا ملاوٹی شہد نقصان دہ ہے؟

عموماً جو شیرے ملائے جاتے ہیں وہ خود کھانے کی چیزیں ہیں، اس لیے اکثر ملاوٹی شہد فوری طور پر زہر نہیں ہوتا۔ اصل نقصان یہ ہے کہ آپ شہد کی قیمت پر چینی کا شیرا کھا رہے ہیں۔ شوگر کے مریض کے لیے یہ اور بھی اہم ہے، کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اصل میں کیا کھا رہا ہے۔ شہد اور چینی کے فرق پر ہماری تحریر یہاں پڑھیں۔

خریدتے وقت خود کو کیسے بچائیں

  • بہت سستے شہد سے ہوشیار رہیں۔ جنگلی شہد محنت اور خطرے سے اترتا ہے، اور چھوٹی مکھی کا ایک چھتا سال میں صرف چند سو گرام شہد دیتا ہے۔ اگر قیمت بازار سے بہت کم ہو تو سوال ضرور کریں۔
  • سوال پوچھیں۔ کس علاقے کا؟ کس موسم کا؟ کون سی مکھی؟ اچھا بیچنے والا فوراً جواب دے گا۔
  • لیبارٹری جانچ کا پوچھیں۔ گھریلو ٹیسٹ صرف گاڑھا پن بتاتے ہیں، ملاوٹ نہیں۔
  • جمنے سے نہ گھبرائیں۔ خالص شہد کا جم جانا عام بات ہے، ملاوٹ کی نشانی نہیں۔ تفصیل شہد محفوظ رکھنے والی تحریر میں۔
  • رنگ پر فیصلہ نہ کریں۔ ہر شہد کا رنگ اس کے پھولوں کے حساب سے الگ ہوتا ہے۔ یہاں پڑھیں۔

شہدِ ناب کا موسمِ بہار کا شہد اور کیکر کا شہد چھوٹی اور بڑی مکھی دونوں کے جنگلی چھتوں سے ہے، اور لیبارٹری سے ٹیسٹ شدہ ہے۔ ہمارے شہد کے بارے میں کوئی بھی سوال ہو، علاقہ، موسم یا مکھی، تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔ ہمارا شہد دیکھیں یا خالص شہد کا صفحہ پڑھیں۔

تمام تحریریں ←
شادیوں کے موسم میں شہد کا تحفہ: شادی، بزرگوں کی عیادت اور بچے کی پیدائش پر شہد، اور یاد دہانی کہ نومولود کو گُھٹی میں شہد نہ دیں

شادیوں کے موسم میں شہد کا تحفہ: میٹھا، قدرتی اور یادگار

شادی، منگنی، بچے کی پیدائش یا کسی بزرگ کی عیادت: شہد ایسا تحفہ ہے جو ہر گھر میں کام آتا ہے اور دیر تک یاد رہتا ہے۔ جانیے کس موقع پر کون سا شہد دیں، چھوٹی مکھی یا بڑی مکھی، کتنی مقدار، اور وہ ایک ضروری احتیاط جو نومولود بچے کے گھر شہد لے جاتے وقت ہر کسی کو معلوم ہونی چاہیے۔

شہد کی مکھی شہد کیسے بناتی ہے: پھول سے رس، مکھی کے خامرے، پروں کی ہوا سے پانی سکھانا اور موم کی مہر، چار مرحلوں میں

شہد کی مکھی شہد کیسے بناتی ہے؟ پھول سے چھتے تک کا سفر

شہد صرف پھولوں کا رس نہیں۔ پھول کے رس کو شہد بننے میں مکھیوں کی کئی دن کی محنت لگتی ہے: رس جمع کرنا، اس میں اپنے خامرے ملانا، پروں سے ہوا دے کر پانی سکھانا، اور آخر میں موم سے خانہ بند کرنا۔ جانیے یہ سفر کیسے مکمل ہوتا ہے، اور جنگلی چھوٹی مکھی اور ڈُمنا اسے کیسے سر انجام دیتی ہیں۔

خزاں میں بیری کی کانٹے دار شاخ کے ننھے پھولوں پر رس چوستی جنگلی مکھی، اوپر «بیری کا شہد» کا عنوان

بیری کا شہد: پاکستان کا سب سے قیمتی شہد کیوں ہے؟

بیری کا شہد سال میں صرف ایک بار، خزاں میں اترتا ہے۔ جانیں یہ کن علاقوں سے آتا ہے، اس کا رنگ اور ذائقہ کیسا ہوتا ہے، چھوٹی مکھی اور ڈُمنا کے بیری شہد میں کیا فرق ہے، اور اصلی بیری کا شہد خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھیں۔