مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

پاکستانی شہد دنیا میں کہاں جاتا ہے؟ برآمد کے سرکاری اعداد، اور سعودی عرب کا حصہ

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق 2024-25 میں پاکستان نے تقریباً 71 لاکھ ڈالر کا شہد برآمد کیا، جس کا تقریباً 63 فیصد سعودی عرب گیا۔ ملک میں سالانہ 10 سے 12 ہزار ٹن شہد بنتا ہے۔ سرکاری اعداد، آسان زبان میں۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
سنہرے پس منظر پر عنوان «پاکستانی شہد کہاں جاتا ہے؟»، گہرے سبز دائرے میں «63%» اور «سعودی عرب»، اور نیچے لکھا ہے کہ 2024-25 میں کل برآمد تقریباً 71 لاکھ ڈالر رہی، اس کے بعد امارات، کویت، عمان اور قطر، اور ملک میں سالانہ 10 سے 12 ہزار ٹن شہد بنتا ہے۔

پاکستان کا شہد، خاص طور پر بیری کا شہد، خلیجی ملکوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ مگر اعداد کیا کہتے ہیں؟ سیدھا جواب یہ ہے: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے مطابق 2024-25 میں پاکستان نے تقریباً 70 لاکھ 80 ہزار ڈالر کا شہد برآمد کیا، اور اس کا تقریباً 63 فیصد (44 لاکھ 70 ہزار ڈالر) اکیلے سعودی عرب گیا۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور قطر ہیں۔

پاکستان میں کتنا شہد بنتا ہے؟

TDAP کے اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 10 سے 12 ہزار میٹرک ٹن شہد بنتا ہے۔ ادارے کے مطابق مکھیوں کی کالونیاں بڑھ رہی ہیں، اور اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی مانگ، ملک کے اندر بڑھتی کھپت اور جدید مکھی پالنا ہے۔

TDAP شہد کے بڑے علاقے یہ بتاتا ہے:

  • پنجاب: چکوال، اٹک، گوجر خان، سرگودھا، میانوالی، جہلم، تلہ گنگ، سیالکوٹ (ڈسکہ)
  • خیبر پختونخوا: سوات، کوہاٹ، کرک، بنوں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور
  • بلوچستان: زیارت، کوئٹہ، قلات، نصیر آباد، پشین
  • سندھ: ٹھٹھہ، سجاول، حیدرآباد، میرپورخاص، بدین

تین سال کی برآمد

TDAP نے پاکستان ریونیو آٹومیشن (PRAL) کے اعداد سے یہ جدول دیا ہے (لاکھ ڈالر میں):

ملک2022-232023-242024-25
کل74.165.370.8
سعودی عرب52.144.944.7
متحدہ عرب امارات11.49.612.5
کویت5.54.86.7
عمان0.71.72.0
قطر1.61.32.0

یعنی برآمد تقریباً 65 سے 74 لاکھ ڈالر سالانہ کے درمیان رہی ہے، اور سعودی عرب ہر سال سب سے آگے رہا۔

کون سا شہد باہر جاتا ہے؟

TDAP کے مطابق پاکستان کے وہ شہد جن کی باہر مانگ ہے: سدر (بیری)، کیکر (اکیشیا)، مالٹے (سٹرس)، کئی پھولوں والا (ملٹی فلورا) اور جنگلی پہاڑی شہد۔ بیری کا شہد عرب دنیا میں «سدر» کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہمارے بیری کے شہد کی کہانی یہاں پڑھیں۔

چار مکھیاں، دو راستے

TDAP پاکستان میں شہد کی چار مکھیاں گنواتا ہے:

  • ڈُمنا (Apis dorsata)، پہاڑی مکھی (Apis cerana) اور چھوٹی مکھی (Apis florea): مقامی مکھیاں۔ ڈُمنا کا شہد جنگلوں اور پہاڑوں سے اترتا ہے۔
  • یورپی مکھی (Apis mellifera): باہر سے لائی گئی، اور آج جدید مکھی پالنے میں سب سے زیادہ یہی استعمال ہوتی ہے۔

یعنی پاکستان کا شہد دو راستوں سے آتا ہے: لکڑی کے ڈبوں میں پالی گئی مکھیوں سے، اور جنگلی چھتوں سے۔ ہمارا شہد جنگلی چھتوں سے اترتا ہے۔ یہ جنگل کہاں ہیں، یہ یہاں پڑھیں۔

دنیا کے مقابلے میں ہم کہاں ہیں؟

TDAP بین الاقوامی تجارتی مرکز (ITC) کے حوالے سے بتاتا ہے کہ دنیا ہر سال تقریباً 2 ارب 28 کروڑ ڈالر کا شہد درآمد کرتی ہے، جس میں سب سے بڑا خریدار امریکہ (65 کروڑ ڈالر) ہے، پھر جرمنی، جاپان، برطانیہ اور فرانس۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی 70 لاکھ ڈالر کی برآمد بہت چھوٹی ہے۔ اسی لیے شہد کی برآمد بڑھانے کی بہت گنجائش سمجھی جاتی ہے۔

بڑی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے معیار سب سے ضروری ہے: ملاوٹ سے پاک شہد اور لیبارٹری جانچ۔ ملاوٹ کیسے ہوتی ہے، یہ یہاں پڑھیں، اور لیبارٹری میں کیا دیکھا جاتا ہے، یہاں۔

پاکستانی شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر پوچھیں: 03394148413

حوالہ جات

  • Trade Development Authority of Pakistan (TDAP), Honey Sector of Pakistan, brochure for the 3rd International Food and Agriculture Exhibition, 2025 (production 10,000–12,000 t; production areas; bee species; export-demanded varieties; exports by country 2022-23 to 2024-25 from PRAL; world imports from ITC Trade Map): https://agro.tdap.gov.pk/wp-content/uploads/2025/11/Honey-brochure.pdf
تمام تحریریں ←
گہرے بھورے پس منظر پر عنوان «پروپولس: مکھیوں کا گوند»، اور ایک کریم رنگ کی شیٹ پر چار نشان زدہ باتیں کہ مکھیاں اس گوند سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں، داخلے کا راستہ تنگ کرتی ہیں، بڑے مردہ کیڑوں کو ڈھانپ دیتی ہیں اور خانوں کو مضبوط کرتی ہیں۔

پروپولس کیا ہے؟ شہد کی مکھیوں کا گوند، جس سے وہ اپنے چھتے کی حفاظت کرتی ہیں

پروپولس وہ گوند ہے جو شہد کی مکھیاں درختوں کی کلیوں کی رال اور موم سے بناتی ہیں، اور اس سے چھتے کی دراڑیں بند کرتی ہیں۔ FAO کے مطابق یہ کیسا ہوتا ہے، مکھیاں اسے کیسے استعمال کرتی ہیں، اور اس سے الرجی کیوں ہو سکتی ہے۔

ہلکے مٹیالے پس منظر پر عنوان «ایک کلو شہد کی بوتل چھوٹی کیوں؟»، گہرے بھورے دائرے میں «700 ملی لیٹر»، اور نیچے لکھا ہے کہ شہد پانی سے تقریباً 40 فیصد بھاری ہے، ایک لیٹر کی بوتل میں تقریباً 1.4 کلو شہد آتا ہے، اور شہد ہمیشہ وزن سے خریدیں۔

ایک کلو شہد کی بوتل چھوٹی کیوں لگتی ہے؟ شہد کا وزن، حجم اور پانی کا حساب

شہد پانی سے تقریباً 40 فیصد بھاری ہوتا ہے، اس لیے ایک کلو شہد صرف تقریباً 700 ملی لیٹر جگہ لیتا ہے، اور ایک لیٹر کی بوتل میں تقریباً 1.4 کلو شہد آتا ہے۔ FAO کے اعداد، اور یہ کہ شہد ہمیشہ وزن سے کیوں خریدیں۔