مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

کھانے کے 3 سنت آداب: بسم اللہ، دایاں ہاتھ اور اپنے سامنے سے، شہد کھاتے ہوئے بھی

صحیح بخاری کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایک بچے کو کھانے کے تین آداب سکھائے: بسم اللہ پڑھو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ جانیے یہ حدیث کس موقع پر فرمائی گئی، بچوں کو یہ آداب کیسے سکھائیں، اور شہد کھاتے وقت ان کے ساتھ کون سی عملی باتیں یاد رکھیں۔

3 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
کھانے کے تین سنت آداب پر صحیح بخاری کی حدیث: اللہ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ، ساتھ یہ یاد دہانی کہ شہد کھاتے وقت بھی یہی آداب ہیں

کھانے کے تین بنیادی سنت آداب یہ ہیں: کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، دائیں ہاتھ سے کھانا، اور برتن میں اپنے سامنے والے حصے سے کھانا۔ یہ تینوں باتیں نبی کریم ﷺ نے ایک ہی جملے میں ایک بچے کو سکھائیں، اور یہ حدیث صحیح بخاری (5376) میں ہے۔ شہد کا ایک چمچ ہو یا پورا دسترخوان، یہ آداب ہر کھانے پر لاگو ہوتے ہیں۔

یہ حدیث کس موقع پر فرمائی گئی؟

ایک بچے کو، پیار سے، کھانے کے دوران۔ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بچپن میں رسول اللہ ﷺ کی سرپرستی میں تھے، اور کھاتے ہوئے ان کا ہاتھ پورے برتن میں گھومتا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:

«اے لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور جو تمہارے سامنے ہے اس میں سے کھاؤ۔» (صحیح بخاری، 5376)

وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ان کے کھانے کا یہی طریقہ رہا۔ ڈانٹ نہیں، ایک مختصر اور واضح بات، جو عمر بھر کی عادت بن گئی۔ شہد کے بارے میں دوسری صحیح احادیث یہاں پڑھیں۔

1. بسم اللہ

کھانا شروع کرنے سے پہلے «بسم اللہ» کہیں۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ یہ رزق اللہ کی طرف سے ہے۔ شہد کے بارے میں تو قرآنِ مجید خود بتاتا ہے کہ اسے مکھی اللہ کے حکم سے بناتی ہے۔ اس پر ہماری تحریر یہاں۔

2. دائیں ہاتھ سے

کھانا اور پینا دائیں ہاتھ سے۔ شہد کا چمچ، چائے کا کپ، یا روٹی کا نوالہ: سب دائیں ہاتھ سے۔ بچوں کو شروع سے یہ عادت ڈالیں تو بڑے ہو کر یاد دلانا نہیں پڑتا۔

3. اپنے سامنے سے

مشترکہ برتن میں اپنے سامنے والے حصے سے کھائیں۔ پورے برتن میں ہاتھ گھمانا دوسروں کے حصے میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ یہ صفائی بھی ہے اور دوسروں کا لحاظ بھی۔

شہد کے جار کے لیے اس کا عملی مطلب یہ ہے: سب کے لیے ایک صاف چمچ، اور ہر شخص اپنے حصے کا شہد اپنی پلیٹ یا روٹی پر لے۔ جھوٹا چمچ دوبارہ جار میں نہ ڈالیں۔

شہد کھاتے وقت 3 عملی باتیں

آداب کے ساتھ یہ تین باتیں بھی یاد رکھیں:

  1. صاف اور خشک چمچ: گیلا یا جھوٹا چمچ جار میں پانی اور کھانے کے ذرات لے جاتا ہے۔ شہد رکھنے کا صحیح طریقہ یہاں پڑھیں۔
  2. اعتدال: شہد بھی شکر ہے۔ NHS کے مطابق بالغ کے لیے روزانہ زیادہ سے زیادہ 30 گرام فری شوگر، اور شہد اسی میں شامل ہے۔ موازنہ یہاں۔
  3. 12 مہینے سے کم عمر بچہ: NHS کہتا ہے کہ ایک سال سے کم عمر بچے کو شہد بالکل نہ دیں۔ تفصیل یہاں۔

بچوں کو یہ آداب کیسے سکھائیں؟

جیسے نبی کریم ﷺ نے سکھایا: مختصر، نرمی سے، اور کھانے کے وقت۔

  • ایک وقت میں ایک بات: پہلے صرف بسم اللہ، پھر دایاں ہاتھ، پھر اپنے سامنے سے۔
  • خود کر کے دکھائیں: بچہ وہی کرتا ہے جو دسترخوان پر بڑوں کو کرتے دیکھتا ہے۔
  • ناشتے سے شروع کریں: صبح کا ناشتہ سب کے ساتھ بیٹھنے کا اچھا وقت ہے۔ شہد اور کھجور والے ناشتے کے خیالات یہاں۔

آپ کے گھر میں بچوں کو کھانے کے آداب کون سکھاتا ہے؟ شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔

تمام تحریریں ←
سورۃ التحریم کی پہلی آیت عربی اور اردو میں: اے نبی! آپ کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے، ساتھ یہ سبق کہ حلال نعمت کو اپنے اوپر حرام نہ کریں

شہد کا وہ واقعہ جس پر سورۃ التحریم کی پہلی آیت اتری: نبی کریم ﷺ اور شہد

صحیح بخاری کے مطابق نبی کریم ﷺ کو شہد اور میٹھی چیزیں پسند تھیں۔ ایک بار آپ ﷺ نے شہد نہ پینے کی قسم کھائی، تو سورۃ التحریم کی پہلی آیت نازل ہوئی: «اے نبی! آپ کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟» جانیے یہ واقعہ کیا تھا، «مغافیر» کیا ہے، اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے۔

میڈ ہنی سے متاثر ہونے کا وقت: آدھے گھنٹے سے تین گھنٹے میں چکر اور الٹی، پھر بلڈ پریشر گرنا اور دھڑکن سست ہونا، فوراً اسپتال، اور علاج سے عموماً دو دن میں صحت یابی

«میڈ ہنی» کیا ہے؟ روڈوڈینڈرن کے پھولوں کا وہ شہد جو دل کی دھڑکن سست کر سکتا ہے

ہر شہد ایک جیسا نہیں۔ روڈوڈینڈرن کے بعض پھولوں سے بننے والے شہد میں «گرایانوٹوکسن» نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے، جو چکر، الٹی، بلڈ پریشر گرنے اور دل کی دھڑکن سست ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ جانیے یہ شہد کہاں بنتا ہے، اس کی علامات کیا ہیں، اور ہانگ کانگ کے محکمۂ صحت نے کیا احتیاط بتائی ہے۔

مکھیوں کو چینی کا شربت کھلانا: سردیوں میں مکھیوں کو زندہ رکھنے کے لیے جائز، مگر پھولوں کے موسم میں شہد بڑھانے کے لیے یہ ملاوٹ ہے

مکھیوں کو چینی کا شربت کھلانا: سردیوں میں جائز، مگر شہد کے موسم میں یہ «چھپی ہوئی ملاوٹ» ہے

شہد میں ملاوٹ صرف جار میں شیرا ملانے سے نہیں ہوتی۔ اگر پھولوں کے موسم میں مکھیوں کو چینی کا شربت کھلایا جائے تو وہ شربت بھی چھتے میں «شہد» بن کر جمع ہو جاتا ہے۔ جانیے مکھی پالنے والے مکھیوں کو چینی کیوں دیتے ہیں، کب یہ ضروری ہے، کب یہ ملاوٹ بن جاتی ہے، اور یورپی تحقیق اس بارے میں کیا کہتی ہے۔