شہد کا وہ واقعہ جس پر سورۃ التحریم کی پہلی آیت اتری: نبی کریم ﷺ اور شہد
صحیح بخاری کے مطابق نبی کریم ﷺ کو شہد اور میٹھی چیزیں پسند تھیں۔ ایک بار آپ ﷺ نے شہد نہ پینے کی قسم کھائی، تو سورۃ التحریم کی پہلی آیت نازل ہوئی: «اے نبی! آپ کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟» جانیے یہ واقعہ کیا تھا، «مغافیر» کیا ہے، اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے۔
◆4 منٹ کا مطالعہ

سورۃ التحریم کی پہلی آیت شہد کے ایک واقعے پر نازل ہوئی۔ صحیح بخاری (4912) کے مطابق نبی کریم ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ آپ آئندہ شہد نہیں پئیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اے نبی! آپ کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے؟» اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو شہد اور میٹھی چیزیں پسند تھیں۔
نبی کریم ﷺ کو شہد پسند تھا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود بتاتی ہیں۔ صحیح بخاری (5268) میں ان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو میٹھی چیزیں اور شہد پسند تھے، اور آپ ﷺ عصر کے بعد اپنی ازواجِ مطہرات کے ہاں تشریف لے جاتے تھے۔ شہد پر دوسری صحیح احادیث یہاں پڑھیں۔
واقعہ کیا تھا؟
ایک گھر میں شہد پینا، اور ایک بو کا ذکر۔ صحیح بخاری (4912) کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیتے اور وہاں کچھ دیر ٹھہرتے تھے۔ دو ازواجِ مطہرات نے آپس میں طے کیا کہ آپ ﷺ ان کے پاس آئیں تو وہ کہیں گی کہ آپ سے «مغافیر» کی بو آ رہی ہے۔
نبی کریم ﷺ کو ناگوار بو بالکل پسند نہیں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو زینب کے ہاں شہد پیا ہے، اور آئندہ نہیں پیوں گا۔ اس پر سورۃ التحریم کی آیات نازل ہوئیں۔
صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت (5268) میں یہ شہد حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو تحفے میں ملا تھا، اور وہاں یہ جملہ ہے: «شاید اس شہد کی مکھیوں نے عُرفُط کا رس چوسا ہے۔»
«مغافیر» کیا ہے؟
عُرفُط نامی ایک کانٹے دار درخت کی گوند، جس کی بو ناگوار ہوتی ہے۔ صحیح بخاری کے انگریزی مترجم کی وضاحت کے مطابق مغافیر «عُرفُط» نامی ایک قسم کے کیکر نما درخت کی گوند ہے۔
یہاں ایک دلچسپ بات ہے: «شاید مکھیوں نے عُرفُط کا رس چوسا ہے» کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے کے لوگ بھی جانتے تھے کہ شہد کی خوشبو اس پھول یا درخت سے آتی ہے جس کا رس مکھی نے لیا۔ آج سائنس بھی یہی کہتی ہے۔ شہد کا رنگ اور ذائقہ پھول کے ساتھ کیوں بدلتا ہے، یہ یہاں پڑھیں۔
اللہ نے کیا فرمایا؟
قرآنِ مجید میں ہے:
«اے نبی! آپ کیوں اس چیز کو (اپنے اوپر) حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے، اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہوئے؟ اور اللہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔» (سورۃ التحریم، آیت 1)
ہمارے لیے سبق
حلال کو اپنے اوپر حرام نہ کریں۔ اس واقعے کے چند سبق:
- حلال نعمت کا احترام: جو چیز اللہ نے حلال کی، اسے قسم کھا کر اپنے اوپر حرام کر لینا پسندیدہ نہیں۔
- سنی سنائی پر فیصلہ: کسی بات پر یقین کرنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ سچ ہے یا نہیں۔
- صفائی اور خوشبو: نبی کریم ﷺ کو اچھی خوشبو پسند اور ناگوار بو ناپسند تھی۔ صاف ستھرا رہنا سنت کا حصہ ہے۔
- شہد ایک نعمت ہے: جسے نبی کریم ﷺ پسند فرماتے تھے، اسے شکر اور اعتدال سے کھائیں۔ کھانے کے سنت آداب یہاں پڑھیں، اور سنت کی ایک اور ترکیب تلبینہ یہاں۔
قرآنِ مجید میں شہد کا ذکر کہاں ہے، یہ اس تحریر میں پڑھیں۔
شہد کے بارے میں کوئی سوال ہو تو واٹس ایپ پر بلا جھجک پوچھیں۔
مزید پڑھیں
تمام تحریریں ←
«میڈ ہنی» کیا ہے؟ روڈوڈینڈرن کے پھولوں کا وہ شہد جو دل کی دھڑکن سست کر سکتا ہے
ہر شہد ایک جیسا نہیں۔ روڈوڈینڈرن کے بعض پھولوں سے بننے والے شہد میں «گرایانوٹوکسن» نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے، جو چکر، الٹی، بلڈ پریشر گرنے اور دل کی دھڑکن سست ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ جانیے یہ شہد کہاں بنتا ہے، اس کی علامات کیا ہیں، اور ہانگ کانگ کے محکمۂ صحت نے کیا احتیاط بتائی ہے۔
مکمل پڑھیں ←
مکھیوں کو چینی کا شربت کھلانا: سردیوں میں جائز، مگر شہد کے موسم میں یہ «چھپی ہوئی ملاوٹ» ہے
شہد میں ملاوٹ صرف جار میں شیرا ملانے سے نہیں ہوتی۔ اگر پھولوں کے موسم میں مکھیوں کو چینی کا شربت کھلایا جائے تو وہ شربت بھی چھتے میں «شہد» بن کر جمع ہو جاتا ہے۔ جانیے مکھی پالنے والے مکھیوں کو چینی کیوں دیتے ہیں، کب یہ ضروری ہے، کب یہ ملاوٹ بن جاتی ہے، اور یورپی تحقیق اس بارے میں کیا کہتی ہے۔
مکمل پڑھیں ←
پھلائی کا شہد: پوٹھوہار کی پہاڑیوں کا ہلکا سنہری شہد، جو دیر تک مائع رہتا ہے
پھلائی پوٹھوہار اور خیبر پختونخوا کی پتھریلی پہاڑیوں کا ایک سخت جان، کانٹے دار درخت ہے، جس کی ٹہنی کبھی مسواک کے طور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ جانیے پھلائی کا شہد کیسا ہوتا ہے، یہ کیکر کے شہد سے کیسے مختلف ہے، یہ دیر تک مائع کیوں رہتا ہے، اور اسے کیسے کھائیں۔
مکمل پڑھیں ←