مرکزی مواد پر جائیں
شہدِ نابShehad-E-Naab

سورج مکھی کا شہد: خزاں کے سنہری کھیتوں سے، جلد جمنے والا کریمی شہد

پنجاب اور سندھ میں سورج مکھی سال میں دو بار کھلتی ہے، اور خزاں کی فصل ان دنوں پھولوں پر ہے۔ جانیے سورج مکھی کا شہد کیسا ہوتا ہے، یہ اتنی جلدی کیوں جم جاتا ہے، کیا سورج مکھی واقعی سورج کے ساتھ گھومتی ہے، اور اس شہد کو کیسے کھائیں۔

4 منٹ کا مطالعہ

شیئر کریں:واٹس ایپفیس بک
سورج مکھی کے پیلے پھول پر شہد کی مکھی، ساتھ سورج مکھی کے شہد کا تعارف: پنجاب اور سندھ کی بہار اور خزاں کی فصل، جلد جم کر کریمی ہونے والا ہلکا میٹھا شہد

جنوبی پنجاب یا سندھ میں ان دنوں سفر کریں تو کہیں کہیں کھیت بڑے پیلے پھولوں سے بھرے نظر آتے ہیں: سورج مکھی۔ یہی پھول جنگلی مکھیوں کو ایک ایسا شہد دیتے ہیں جو اپنی ایک خاص عادت کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے: یہ بہت جلد جم جاتا ہے۔

سال میں دو فصلیں

پاکستان میں سورج مکھی تیل کے بیج کے لیے اگائی جاتی ہے، اور یہ سال میں دو بار کاشت ہوتی ہے:

  • بہار کی فصل: جنوری فروری میں بوئی جاتی ہے، اور مئی جون میں کٹتی ہے۔
  • خزاں کی فصل: جولائی اگست میں بوئی جاتی ہے، اور نومبر دسمبر میں کٹتی ہے۔

دونوں فصلوں کے پھولوں کے دنوں میں مکھیاں ان کے رس سے شہد بناتی ہیں۔ پورے سال کا شہد کیلنڈر یہاں دیکھیں۔

کیا سورج مکھی واقعی سورج کے ساتھ گھومتی ہے؟

جزوی طور پر ہاں۔ 2016 میں سائنسی جریدے Science میں چھپی ایک تحقیق کے مطابق جوان پودے دن بھر سورج کے ساتھ مشرق سے مغرب کی طرف مڑتے ہیں، اور رات میں واپس مشرق کی طرف ہو جاتے ہیں۔ مگر جب پھول پورا کھل جاتا ہے تو گھومنا بند ہو جاتا ہے اور پھول مشرق کی طرف رک جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ مشرق رخ پھول صبح کی دھوپ سے گرم رہتے ہیں اور ان پر مکھیاں زیادہ آتی ہیں۔

ہر چیز اپنے رب کے حکم میں

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«سورج اور چاند ایک حساب سے چل رہے ہیں، اور بے تنے کے پودے اور درخت (اللہ کو) سجدہ کرتے ہیں۔» (سورۃ الرحمٰن، آیات 5 اور 6)

سورج اپنے حساب سے چلتا ہے، پھول اسی کی روشنی سے کھلتا ہے، اور مکھی اسی پھول سے شہد بناتی ہے: ہر چیز اپنے رب کے بنائے ہوئے نظام میں ہے۔

اتنی جلدی کیوں جم جاتا ہے؟

شہد میں دو بڑی قدرتی شکریں ہوتی ہیں: گلوکوز اور فرکٹوز۔ گلوکوز پانی میں کم گھلتا ہے، اس لیے جس شہد میں گلوکوز زیادہ ہو، وہ جلدی قلمیں بنا کر جم جاتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق سورج مکھی اور سرسوں کا شہد ایسے ہی جلد جمنے والے شہدوں میں شامل ہیں۔

یعنی سورج مکھی کا جما ہوا شہد ملاوٹ نہیں، اس کی فطرت ہے۔ جمنے کے بارے میں غلط فہمیاں یہاں پڑھیں۔

سورج مکھی کا شہد: ایک نظر میں

رنگچمکدار سنہری؛ جمنے پر ہلکا پیلا
ذائقہہلکا میٹھا، پھولوں جیسی ہلکی مہک
علاقہپنجاب اور سندھ کے کھیت
موسمفصل کے ساتھ: بہار اور خزاں
مکھیچھوٹی مکھی یا بڑی مکھی (ڈُمنا)
خاص باتجلد جم کر گاڑھا اور کریمی ہو جاتا ہے

کیسے کھائیں؟

  • روٹی اور پراٹھے پر: جما ہوا شہد مکھن کی طرح لگائیں۔
  • دلیہ اور دہی: چینی کی جگہ ایک چمچ۔
  • چائے میں: جب پینے کے قابل ہو جائے، کھولتی ہوئی میں نہیں۔
  • مائع چاہیے؟ جار کو کچھ دیر نیم گرم پانی کے برتن میں رکھیں۔ کھولتا پانی یا مائیکرو ویو استعمال نہ کریں۔ تفصیل یہاں۔

چند ضروری باتیں

  • 12 مہینے سے کم عمر بچے کو شہد بالکل نہ دیں۔ تفصیل یہاں۔
  • شوگر کے مریض اپنے ڈاکٹر سے پوچھ کر استعمال کریں۔

سورج مکھی کا شہد چھوٹی مکھی اور بڑی مکھی (ڈُمنا) دونوں کا، 500 گرام اور 1 کلو کے جار میں دستیاب ہے، لیبارٹری سے ٹیسٹ شدہ۔ مقدار محدود ہوتی ہے، اسٹاک واٹس ایپ پر تصدیق کر لیں۔ سورج مکھی کا شہد دیکھیں۔ اس جیسا ایک اور جلد جمنے والا شہد: سرسوں کا شہد۔ دونوں مکھیوں کا فرق یہاں پڑھیں۔

تمام تحریریں ←
شہد سے بنی تین چٹنیوں کے جار: املی اور شہد، ہنی مسٹرڈ، اور لہسن مرچ، ساتھ یہ ہدایت کہ شہد چولہا بند کر کے آخر میں ملائیں

شہد والی 3 گھریلو چٹنیاں: املی، ہنی مسٹرڈ اور لہسن مرچ، چینی کے بغیر

سموسے، پکوڑے، چاٹ یا سلاد: ہر چیز کا مزہ چٹنی سے دوبالا ہوتا ہے۔ جانیے گھر پر املی کی میٹھی چٹنی، ہنی مسٹرڈ ڈریسنگ اور لہسن مرچ کی چٹنی چینی کی جگہ شہد سے کیسے بنائیں، شہد کب ڈالیں، اور چٹنی کو کیسے رکھیں۔

جعلی شہد کی شکایت کی چیک لسٹ: جار اور لیبل رکھیں، رسید رکھیں، دکان کا پتا اور تصویریں لیں، اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہیلپ لائن 1223 پر کال کریں

جعلی شہد کی شکایت کہاں کریں؟ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چھاپے، اور خریدار کے طور پر آپ کا حق

لاہور اور گوجرانوالہ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسے یونٹ پکڑے جہاں چینی، گلوکوز، رنگ اور پھولوں کی پتیوں سے «شہد» بنایا جا رہا تھا۔ جانیے ان چھاپوں میں کیا ملا، ملاوٹ کا شبہ ہو تو شکایت کہاں اور کیسے کریں، اور شکایت سے پہلے کیا سنبھال کر رکھیں۔

مزدور مکھی کی زندگی کے مرحلے: 3 دن انڈا، 6 دن لاروا، 12 دن بند خانے میں پیوپا، پہلے تین ہفتے چھتے کے اندر کام اور آخری تین ہفتے پھولوں سے رس لانا

ایک مزدور مکھی کی زندگی: انڈے سے پھولوں تک، صرف چھ ہفتوں کی کہانی

جو مکھی آپ کو پھول پر نظر آتی ہے، وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہے۔ جانیے ایک مزدور مکھی 21 دن میں انڈے سے کیسے بنتی ہے، چھتے کے اندر عمر کے ساتھ کون کون سے کام کرتی ہے، اور گرمیوں میں صرف چھ ہفتے جی کر بھی کیسے پورے چھتے کو زندہ رکھتی ہے۔